Updated: July 22, 2026, 8:59 PM IST
| Mumbai
’’بگ باس ۱۷‘‘ اور فلم ’’دھرندھر‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ عائشہ خان کو ممبئی میں جاری احتجاج کے دوران پولیس نے دیگر مظاہرین کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں۔ پولیس نے عوامی اجتماعات پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا، تاہم خبر لکھے جانے تک عائشہ خان کے خلاف کسی مقدمے یا باضابطہ کارروائی کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
اداکارہ عائشہ خان۔ تصویر: ایکس
’’بگ باس ۱۷‘‘ کی سابق امیدوار اور اداکارہ عائشہ خان کو ممبئی میں جاری احتجاج کے دوران پولیس نے دیگر مظاہرین کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ واقعہ موضوعِ بحث بن گیا، جبکہ مداحوں نے اداکارہ کی خیریت جاننے کے لیے تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹس کے مطابق عائشہ خان احتجاج میں شریک تھیں، جہاں پولیس نے عوامی اجتماعات سے متعلق نافذ پابندیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو احتجاجی مقام سے لوگوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک پولیس کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ عائشہ خان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے یا انہیں رسمی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق انہیں احتجاج کے دوران دیگر افراد کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔
یہ احتجاج ممبئی میں حالیہ دنوں کے ان مظاہروں کا حصہ ہے جن کے پیشِ نظر شہر کے بعض علاقوں میں عوامی اجتماعات پر پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ انہی پابندیوں کے دوران پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین کو اپنی تحویل میں لیا۔ عائشہ خان نے ’’بگ باس ۱۷‘‘ میں بطور وائلڈ کارڈ انٹری لے کر قومی سطح پر شہرت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے تیلگو اور ہندی فلموں میں کام کیا، جبکہ فلم دھرندھر کے گیت ’’شرارت‘‘ میں ان کی خصوصی موجودگی کو بھی کافی پسند کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں وہ فلمی منصوبوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی خاصی سرگرم رہی ہیں۔
عائشہ خان کی حراست کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق میں اور مخالفت میں مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک نہ تو عائشہ خان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا تھا اور نہ ہی ممبئی پولیس نے ان کے خلاف کسی مخصوص الزام یا مقدمے کی تصدیق کی تھی۔ اس لیے دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں احتجاج کے دوران دیگر مظاہرین کے ساتھ عارضی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔