ممبئی کے ساحلی علاقوں میں اشتہارات سے آراستہ تیرتی کشتیوں کو اجازت دینے کے مہاراشٹر حکومت کے فیصلے پر شدید مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ شہریوں اور سیاسی لیڈروں نے اسے ساحلی حسن کی تباہی قرار دیتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai
ممبئی کے ساحلی علاقوں میں اشتہارات سے آراستہ تیرتی کشتیوں کو اجازت دینے کے مہاراشٹر حکومت کے فیصلے پر شدید مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ شہریوں اور سیاسی لیڈروں نے اسے ساحلی حسن کی تباہی قرار دیتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بحرعرب کے اوپر طلوع یا غروبِ آفتاب کا نظارہ کرنے کیلئے جوہو یا باندرہ کے ساحلوں کا رخ کرنے کا سلسلہ جلد ہی ماضی کا حصہ بن سکتا ہے، کیونکہ ممبئی میری ٹائم بورڈ نے شہر کے اہم ساحلی علاقوں میں اشتہارات سے آراستہ تیرتے ہوئے بارجز (مال بردار کشتیوں ) کو چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہاراشٹر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں اور سیاسی لیڈروں نے اس اقدام کو شہر کے خوبصورت ساحلی خطے کی کھلی تجارتی کاری قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے خلاف تبصروں اور پوسٹوں کی بھرمار ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ساحلی علاقوں کا قدرتی حسن متاثر ہوگا اور سمندر کا نظارہ اشتہارات کی بھیڑ میں گم ہو جائے گا۔
ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’اس فیصلے پر پابندی لگائی جائے۔ ساحلی مقامات پر اشتہارات سے بھری کشتیاں اور ہورڈنگز لگانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ سمندر کسی کارپوریٹ کمپنی کی ملکیت نہیں ہے۔ ان شرمناک سرگرمیوں کو روکا جائے۔ ‘‘
Why, oh why? Streets full of flex hoardings and road dividers lit with digital ad boards aren`t enough? Now they want the waterfronts too?
— Prachi Bora (@HokiePrachi) October 28, 2026
کئی صارفین نے نشاندہی کی کہ شہر کی اہم سڑکیں پہلے ہی اشتہاری ہورڈنگز سے بھری ہوئی ہیں، جس سے ممبئی کی خوبصورتی اور افق کا منظر متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں میں بھی اشتہارات لگانے سے یہی صورتحال پیدا ہوگی۔ بعض صارفین نے انہیں انتہائی تیز روشنی والے اور توجہ منتشر کرنے والے اشتہارات قرار دیا۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’آخر کیوں ؟ کیا سڑکوں پر فلیکس ہورڈنگز اور ڈیوائیڈرز پر روشن ڈجیٹل اشتہاری بورڈز کافی نہیں تھے؟ اب ساحلی علاقوں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا؟‘‘
ایک صارف نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن مقامات پر لوگ بلا معاوضہ سکون سے سمندر اور افق کا نظارہ کرنے جاتے ہیں، وہاں بھی شہریوں سے بالواسطہ طور پر اس سہولت کی قیمت وصول کرنے کا منصوبہ ناقابلِ یقین ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’تصور کیجئے کہ چند لوگ ایک کمرے میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شہریوں سے افق کو خاموشی سے دیکھنے کی قیمت وصول کی جائے۔ یہ تو مہا اورویلیئن (انتہائی آمرانہ طرزِ فکر) ہے!‘‘
Imagine a few people got together in a loser meeting room and decided to charge people for listlessly staring into the horizon. Maha Orwellian!!
— Dr. Ruchika Sharma (@tishasaroyan) October 29, 2026
بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتوں پر طنز کرتے ہوئے، جو چین کے خلاف اپنے سخت بیانات کے لیے مشہور ہیں، ایک صارف نے دونوں ممالک کی ترجیحات کا موازنہ کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’چین نے شنگھائی میں اپنا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر شروع کیا ہے، جس سے قیمتی میٹھے پانی کی بچت ہوگی، جبکہ ہم نے تیرتے ہوئے اشتہاری ہورڈنگز شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان اور ہندوستان کا وژن! واہ!‘‘ بہت سے لوگوں نے ابتدا میں اسے انتظامیہ کا مذاق سمجھا، تاہم ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’تصور کیجیے، یہاں دھرندھر۵؍ کا ٹریلر دکھایا جائے گا!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ اشتہارات ممبئی کی سرمئی دھند سے بھری فضا اور آلودہ سمندر کے پس منظر میں نمایاں نظر آئیں گے۔ تیرتا ہوا کچرا بھی اس تجربے کو خراب کر سکتا ہے۔ برانڈز کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ‘‘
China began their first underwater data center in Shanghai saving precious fresh water and we are starting with floating advertising hoardings...India and Indian vision...Wow https://t.co/eGAHshsVgW
— Mohammed Futurewala (@MFuturewala) October 28, 2026
ادھر شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے ممبئی کے سمندر میں ’’تیرتے ہوئے ہورڈنگز‘‘ لگانے کی اجازت کے فیصلے کے خلاف مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندرفرنویس سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے ممبئی کا قدرتی حسن اور شہر کی خوبصورتی تباہ ہو جائے گی۔ آدتیہ ٹھاکرے نے۲۸؍ اکتوبر کو وزیر اعلیٰ کو ایک خط لکھا تھا، جس کی کاپی انہوں نے جمعرات کو ایکس پر بھی شیئر کی۔ خط میں انہوں نے کہا کہ آلودگی میں مسلسل اضافے اور اس پر قابو پانے کیلئےسنجیدہ اقدامات نہ کئے جانے کے باعث شہر کے بیشتر علاقوں سے سمندر بمشکل دکھائی دیتا ہے، یہاں تک کہ ساحل سے تھوڑے فاصلے پر واقع مقامات سے بھی اس کا نظارہ مشکل ہوگیا ہے۔
It will pop against the grey smog skies and grey water. Floating garbage may hamper the experience. Brands should keep that in mind.
— Aashish Mehrotra (@AgniBankai) October 28, 2026
سابق وزیر نے کہا، ’’افسوس کی بات ہے کہ ہورڈنگ ٹھیکیداروں کے ایک گروہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کئے گئے اس مضحکہ خیز فیصلے کے بعد سمندر کا جو تھوڑا بہت حصہ دکھائی دیتا ہے، وہ بھی اشتہارات سے ڈھک جائے گا۔ شہر کے شہری پہلے ہی زمین پر پھیلی شدید آلودگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ‘‘ ٹھاکرے نے کہا کہ شہر میں ہورڈنگز کو منظم کرنے کیلئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے۔ اس کے تحت رات کے وقت شہریوں کیلئے پریشانی کا سبب بننے والے ایل ای ڈی ہورڈنگز کو ضابطے میں لانے کے ساتھ شہر بھر میں اشتہاری بورڈز کی تعداد بھی محدود کی جانی چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہر کی خوبصورتی کو اشتہاری ٹھیکیداروں کے مفادات پر ترجیح دی جانی چاہئے، لیکن افسوس کہ اس فیصلے میں شہر کے حسن کے بجائے ٹھیکیداروں کے مفادات کو فوقیت دی گئی ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے خط کے اختتام پر کہا، ’’میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ فیصلے کو روکنے کیلئے مداخلت کریں۔ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر بدعنوانی پر مبنی ہے اور یقینی طور پر ممبئی کے حسن کو تباہ کرنے کا سبب بنے گا۔ ‘‘