• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سفید سمندری شیر

Updated: October 30, 2026, 5:48 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

برطانیہ کے معروف ادیب رُڈیارڈ کپلنگ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی وہائٹ سیل‘‘ The White Sealکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بحر بیرنگ کے سرد پانیوں میں واقع جزیرۂ سینٹ پال کے مشرقی ساحل پر نوواسٹوشنا نامی ایک مقام تھا۔ گرمیوں میں وہاں لاکھوں سمندری شیر جمع ہوتے تھے۔ دنیا میں ان کیلئے اس سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی ہو۔ ساحل پر نرم ریت تھی، سمندر میں وافر مقدار میں مچھلیاں تھیں اور چٹانوں کے درمیان بچوں کو پالنے کیلئے مناسب جگہیں تھیں۔ ہر موسم بہار میں نر شیر دور دراز سمندروں سے وہاں پہنچتے اور اپنے لئے جگہ حاصل کرنے کی خاطر آپس میں لڑتے۔ ان میں سی کیچ نامی ایک بہت بڑا اور طاقتور نر بھی تھا جس کے کندھوں پر سرمئی بالوں کی موٹی تہہ تھی۔ اس کے جسم پر پرانی لڑائیوں کے بے شمار نشان تھے۔ اس کا وزن تقریباً سات سو پاؤنڈ تھا اور وہ ہر سال ساحل پر اپنی جگہ حاصل کرنے کیلئے درجنوں مقابلے کرتا۔ 
سی کیچ کی بیوی مَتکا نرم مزاج اور سمجھدار تھی۔ ایک سال وہ معمول سے کچھ دیر سے ساحل پر پہنچی تو سی کیچ نے اسے گردن سے پکڑ کر اپنی مخصوص جگہ پر اتارا اور خفا ہو کر بولا، ’’تم ہمیشہ دیر سے آتی ہو!‘‘ مَتکا نے شوہر کے زخموں پر نظر ڈالی اور کہا، ’’تم لوگ پُرامن طریقوں سے اپنی جگہیں کیوں نہیں بانٹ لیتے؟ ہر سال ایک دوسرے کو زخمی کرتے ہو، جیسے کسی قاتل وہیل سے لڑ کر آئے ہو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آخری محل کی شہزادی

سی کیچ نے فخر سے سر ہلایا۔ اس کے نزدیک اپنی جگہ پر قبضہ برقرار رکھنا عزت کا معاملہ تھا۔ اسے یہ خیال پسند نہیں تھا کہ وہ کسی دوسری جگہ جا بسے۔ کچھ عرصے بعد مَتکا نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام کوٹک رکھا گیا۔ وہ دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔ اس کی کھال سفید تھی۔ وقت کے ساتھ وہ چاندی جیسا چمکنے لگا۔ سمندری شیروں میں ایسی رنگت غیر معمولی تھی؛ عموماً ان کے بچے گہرے رنگ کے ہوتے تھے۔ اسی لئے کوٹک جہاں جاتا، سب کی نگاہیں اس پر ٹھہر جاتیں۔ مَتکا اپنے بچے سے بے حد محبت کرتی تھی۔ وہ اسے تیرنا سکھاتی، پانی میں مچھلیوں کے پیچھے دوڑنے کا طریقہ بتاتی اور خبردار کرتی کہ کشتیوں اور انسانوں سے ہمیشہ دور رہنا۔ اس نے اسے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھیلنا، پانی کے اندر چٹانوں کے گرد راستہ بنانا اور طوفانی پانی میں خود کو سنبھالنا بھی سکھایا۔ کوٹک جلد ہی تیز رفتار تیراک بن گیا۔ وہ پانی میں یوں پھرتا جیسے کوئی چاندی کی مچھلی تیر رہی ہو۔ لیکن کوٹک کی زندگی کا رُخ اس دن بدلا جب اس نے انسانوں کو سمندری شیروں کا شکار کرتے دیکھا۔ 
موسم گرما شروع تھا۔ کچھ آدمی ساحل پر آئے اور نوجوان سمندری شیروں کے ایک بڑے گروہ کو ہانک کر خشکی کی طرف لے گئے۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ کوٹک نے دیکھا کہ بے بس جانور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر آدمی انہیں گھیر کر آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ پھر ڈنڈے اٹھے اور ایک کے بعد ایک شیر زمین پر گرنے لگے۔ کوٹک خوف سے ساکت رہ گیا۔ اس نے پہلے کبھی ایسی موت نہیں دیکھی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ جانور جن کے ساتھ وہ ساحل پر کھیلتا تھا، اچانک اس طرح کیوں مارے جا رہے ہیں۔ اس نے اپنی آنکھوں سے خون کو ریت میں ملتے، اور آدمیوں کو مردہ شیروں کی کھالیں اتارتے ہوئے دیکھا۔ 
اس رات وہ اپنی ماں کے پاس لوٹا تو اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ ’’ماں ! وہ آدمی ہمیں کیوں مارتے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔ 
مَتکا نے اسے خاموش کرنے کی کوشش کی۔ ’’یہ بہت پرانی بات ہے، میرے بچے۔ انسان ہر سال آتے ہیں۔ ہم سمندر میں رہتے ہیں اور وہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ ہمیں ان سے دور رہنا چاہئے۔ ‘‘ ’’مگر وہ ہمیں کیوں مارتے ہیں ؟ کیا ہمارے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ کبھی نہ پہنچ سکیں ؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بوتل کا آسیب

مَتکا کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔ اس نے اپنے بچے کو اپنے قریب کر لیا اور چاہا کہ وہ یہ منظر بھول جائے۔ مگر کوٹک کیلئے اسے بھولنا ممکن نہ تھا۔ اس نے اپنے والد سی کیچ سے بھی بات کی۔ سی کیچ نے اس کی بات سن کر غصے سے ناک پھلائی۔ اس کے نزدیک یہ دنیا کا معمول تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ انسان شیروں کی کھالوں کیلئے آتے ہیں مگر اسے یقین تھا کہ ان کے خلاف کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کوٹک کو سمجھایا کہ ہر شیر کو اپنے حصے کی زندگی گزارنی ہوتی ہے اور اسے دوسروں کے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ 
کوٹک مطمئن نہ ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ انسانوں کے ہاتھوں مرنے والے جانور بھی اسی قوم کا حصہ تھے جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ اس کے دل میں ایک خیال جڑ پکڑ چکا تھا: اسے کوئی ایسا ساحل تلاش کرنا ہوگا جہاں انسان کبھی نہ پہنچ سکیں۔ وقت گزرتا گیا۔ کوٹک بڑا ہونے لگا، مگر اس کے دل سے وہ منظر نہ نکلا۔ ہر سال انسان آتے اور شیروں کو مار کر ان کی کھالیں لے جاتے۔ معمر شیر اسے صبر کرنے کا مشورہ دیتے، لیکن وہ جانتا تھا کہ صرف صبر سے کچھ نہیں بدلے گا۔ آخرکار اس نے سمندر کے معمر اور تجربہ کار جانوروں سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سی وِچ نامی ایک بوڑھے شیر کے پاس پہنچا، جو اپنے تجربے اور عمر کے باعث دوسروں میں خاص مقام رکھتا تھا۔ 
 کوٹک نے اس سے پوچھا، ’’کیا دنیا میں کوئی ایسا ساحل نہیں جہاں انسان نہ آتے ہوں ؟‘‘ سی وِچ نے پہلے تو اسے حیرت سے دیکھا، پھر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا، ’’ہمیں اس وقت تنگ نہ کرو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: نیلی صلیب

کوٹک نے سمجھ لیا کہ کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اگر اسے اپنی قوم کو بچانا تھا تو اسے خود ہی راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ چنانچہ ایک دن وہ اپنے گھر اور ساحل کو چھوڑ کر دور سمندروں کی طرف نکل پڑا۔ اس نے جزائر کے گرد چکر لگائے، نامعلوم ساحلوں پر پہنچا اور مختلف علاقوں میں رہنے والے شیروں سے سوال کیا۔ کہیں اسے بتایا گیا کہ انسان وہاں بھی آتے ہیں اور شیروں کو مارتے ہیں۔ کہیں چند بچ جانے والے شیروں نے اسے اپنے زخم دکھائے اور کہا کہ وہ اب بھی انسانوں سے محفوظ نہیں۔ وہ جنوبی سمندروں تک گیا، گرم علاقوں میں پہنچا جہاں سورج کی تپش ناقابل برداشت تھی، اور ایسے جزائر دیکھے جہاں اسے رہنے کیلئے مناسب پانی ملا نہ آرام دہ ساحل۔ اس کا سفر طویل اور تھکا دینے والا تھا۔ کبھی طوفانی لہریں اسے چٹانوں سے ٹکرا دینے کے قریب پہنچ جاتیں، کبھی بھوک اسے کمزور کر دیتی اور کبھی اسے کئی دن تک کوئی ایسا شیر نہ ملتا جس سے وہ بات کر سکے۔ مگر وہ ہمت نہ ہارتا۔ ہر نئے ساحل پر پہنچ کر اسے امید ہوتی کہ شاید یہی وہ جگہ ہو جہاں اس کی قوم محفوظ رہ سکے۔ 
ہر جگہ جواب ایک جیسا تھا: انسان وہاں بھی آ چکے تھے۔ بالآخر کوٹک کی امید ٹوٹنے لگی۔ وہ اپنے وطن کی طرف لوٹنے لگا۔ راستے میں ایک جزیرے پر اس کی ملاقات ایک بوڑھے شیر سے ہوئی جو مرنے کے قریب تھا۔ کوٹک نے اس کیلئے مچھلیاں پکڑیں اور اسے اپنے سفر کی داستان سنائی۔ بوڑھے شیر نے اس کی بات سنی مگر اسے بھی کسی محفوظ ساحل کا علم نہ تھا۔ کوٹک نے سوچا کہ اب واپس جا کر وہ بھی باقی شیروں کی طرح اپنی قسمت قبول کر لے گا۔ مگر اس کے دل میں اپنی قوم کو بچانے کی خواہش ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ واپسی کے سفر میں ایک دن اسے سمندر کی گہرائیوں میں سمندری گائے ملی۔ وہ ایک بھاری بھرکم، سست رفتار اور عجیب سی مخلوق تھی، جسے عموماً شیر نظرانداز کر دیتے تھے۔ کوٹک نے اس سے بات کی اور اسے اپنی تلاش کی کہانی سنائی۔ سمندری گائے نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں پانی کے اندر ایک ایسے علاقے کی طرف بڑھے جہاں بلند چٹانیں سمندر سے اٹھتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ بظاہر وہاں کوئی راستہ نہ تھا، مگر سمندری گائے ایک تنگ دراڑ سے اندر داخل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی کی سالگرہ

کوٹک اس کے پیچھے تھا۔ راستہ تنگ تھا اور اسے کئی بار اپنے جسم کو چٹانوں کے ساتھ سمیٹنا پڑا مگر وہ آگے بڑھتا رہا۔ کچھ دیر بعد سرنگ کھل گئی۔ کوٹک ایک پوشیدہ ساحل پر پہنچا، جسے باہر سے دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اونچی چٹانیں اسے چاروں طرف سے چھپائے ہوئے تھیں۔ سمندر کی طرف سے ایک خفیہ راستہ اس تک پہنچتا تھا، لیکن انسانوں کیلئے وہاں آنا تقریباً ناممکن تھا۔ اندر صاف پانی، آرام دہ ساحل اور شیروں کے رہنے کیلئے کشادہ جگہ تھی۔ سب سے بڑھ کر، وہاں انسانوں کی آمد کا کوئی نشان نہ تھا۔ کوٹک کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے سمندری گائے کا شکریہ ادا کیا اور کئی بار اس راستے کو آزمایا تاکہ یقین کر سکے کہ وہاں پہنچنا محفوظ ہے۔ پھر وہ تیزی سے نوواسٹوشنا لوٹا۔ اب اس کے پاس اپنی قوم کو بچانے کا راستہ تھا۔ جب کوٹک نے تمام شیروں کو جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ اسے ایک ایسا محفوظ مقام مل گیا ہے جہاں انسان نہیں پہنچ سکتے، جہاں ان کے بچے آزادانہ کھیل سکیں گے اور جہاں انہیں ہر سال موت کے خوف میں نہیں جینا پڑے گا۔ لیکن شیروں نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔ ان کیلئے کوٹک اب بھی ایک نوجوان تھا جس نے اپنی زندگی لڑائیوں میں گزارنے کے بجائے سمندر میں آوارہ گردی کرتے ہوئے گزاری تھی۔ وہ اپنے آبائی ساحل کے عادی تھے اور اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھے۔ 
ایک نوجوان شیر نے طنزیہ کہا، ’’ہم نے اپنی جگہیں لڑ کر حاصل کی ہیں۔ تم نے کبھی کسی کے ساتھ لڑائی نہیں کی۔ اب تم آ کر ہمیں حکم دو گے کہ اپنا گھر چھوڑ دو؟‘‘ کوٹک نے کہا، ’’میں تم سے لڑنے کیلئے نہیں کہہ رہا۔ مَیں تمہیں ایسی جگہ دکھانا چاہتا ہوں جہاں تمہارے بچے محفوظ رہیں۔ ‘‘ ایک نوجوان شیر نے ہنستے ہوئے کہا، ’’اگر تم مجھے لڑائی میں شکست دے دو تو مَیں تمہارے ساتھ چلوں گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا

کوٹک نے چیلنج قبول کرلیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب اسے اپنی بات منوانے کیلئے طاقت دکھانی پڑے گی۔ دونوں آپس میں بھڑ گئے۔ پہلے نوجوان شیر نے کوٹک کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، مگر کوٹک سمندر کے سفر سے مضبوط ہو چکا تھا۔ اس نے پوری قوت سے مقابلہ کیا، اپنے حریف کو قابو کیا اور آخرکار اسے شکست دے دی۔ اس کے بعد دوسرے نر بھی اس کے سامنے آئے۔ کوٹک ایک کے بعد ایک لڑتا رہا۔ وہ تھک چکا تھا، اس کے جسم پر زخم تھے، مگر وہ پیچھے نہ ہٹا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف خواب دیکھنے والا نوجوان نہیں بلکہ ایسا رہنما ہے جو اپنی قوم کیلئے خطرہ مول لے سکتا ہے۔ رات کو جب شمالی روشنیاں دھند میں چمک رہی تھیں، کوٹک ایک بلند چٹان پر چڑھا۔ نیچے ساحل پر زخمی اور تھکے ہوئے شیر جمع تھے۔ اس نے انہیں دیکھا اور کہا، ’’اب تم نے سبق سیکھ لیا ہے۔ میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں وہ جگہ دکھاؤں گا جہاں انسان تم تک نہیں پہنچ سکتے۔ ‘‘ اس بار سی کیچ بھی خاموش تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے جسم پر زخم دیکھ کر حیران تھا اور فخر محسوس کر رہا تھا۔ اس نے کہا، ’’بیٹے، تم نے ایسا مقابلہ کیا ہے کہ قاتل وہیل بھی تمہیں اس سے زیادہ زخمی نہ کر سکتی۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ اگر واقعی ایسی جگہ ہے تو میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔ ‘‘ یوں کوٹک اپنی قوم کے آگے آگے تیرنے لگا۔ ہزاروں شیر اس کے پیچھے چل پڑے۔ وہ سب اس پوشیدہ راستے تک پہنچے اور چٹانوں کے درمیان سے گزر کر اس محفوظ ساحل میں داخل ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے پہلی بار ایسا سکون محسوس کیا جو ان کے آبائی ساحل پر کبھی میسر نہ آیا تھا۔ اب ان کے بچوں کو انسانوں کا خوف نہیں تھا۔ وہ سمندر میں کھیل سکتے تھے، اور اپنی زندگی اس یقین کے ساتھ گزار سکتے تھے کہ ان کا گھر محفوظ ہے۔ اس دن کے بعد سے کوٹک کو سفید شیر کے نام سے یاد کیا جانے لگا، وہ سفید شیر جس نے صرف اپنی زندگی بچانے کیلئے نہیں بلکہ اپنی پوری قوم کیلئے ایک نئی دنیا تلاش کرنے کیلئے سمندروں کا سفر کیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK