پھر ملکہ نے گھنٹی بجائی۔ مجھے لگا کہ اب محافظ آئیں گے اور میری اس تاریخی مہم کا اختتام حوالات میں ہوگا۔ لیکن ایک ملازم چائے لے آیا۔ ’’پہلے چائے پیو، پھر تمہاری اس عجیب نسل کے متعلق بات کریں گے، ‘‘ ملکہ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 5:45 PM IST | Tayyaba Asrar Ahmed | Mumbai
پھر ملکہ نے گھنٹی بجائی۔ مجھے لگا کہ اب محافظ آئیں گے اور میری اس تاریخی مہم کا اختتام حوالات میں ہوگا۔ لیکن ایک ملازم چائے لے آیا۔ ’’پہلے چائے پیو، پھر تمہاری اس عجیب نسل کے متعلق بات کریں گے، ‘‘ ملکہ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
کلکتہ کے وکٹوریہ میموریل میں ملکۂ برطانیہ کی تصویر دیکھتے ہوئے سوچا کہ ’’کاش! اُس دَور میں جاسکتی!‘‘ اور پھر جیسے وقت کا دھارا ہی پلٹ گیا! روشنیاں بجھنے لگیں، تصویر دھندلائی، قدموں تلے زمین سرک سی گئی۔ ایک لمحے کیلئے یوں لگا جیسے مَیں کسی لمبی، تاریک سرنگ میں گر رہی ہوں۔ اور اگلے ہی پل مَیں ایک وسیع شاہی کمرے میں کھڑی تھی۔ سامنے بھاری پردے، چمکتے فانوس اور نفیس فرنیچر تھا۔ میز کے پاس بیٹھی ایک خاتون ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھیں۔ گہرے رنگ کا شاہی لباس، سلیقے سے سنوارے ہوئے بال، قدرے بھاری جسمانی ساخت اور چہرے پر باوقار سنجیدگی۔
دل نے سرگوشی کی: ’’ملکہ وکٹوریہ!‘‘
’’اوہ خدایا! واقعی ٹائم ٹریول!‘‘
میری آواز پر قلم رُک گیا، ’’تم کون ہو؟ یہاں کیسے پہنچیں ؟‘‘ ملکہ نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ابنِ صفی صاحب! احمق جاسوس بنانے کا خیال کہاں سے آیا؟
’’معذرت، یور میجسٹی! داخلہ غیر ارادی تھا۔ یقین جانیے، مَیں کوئی چور نہیں ہوں۔ ‘‘ ملکہ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات دیکھتے ہوئے مَیں نے سنبھل کر کہا، ’’مَیں آپ سے ملنے آئی ہوں۔ اور فکر نہ کیجئے، مَیں آپ سے کوئی فرمائش نہیں کروں گی۔ ‘‘ ’’تمہاری گفتگو میں بے تکلفی کچھ زیادہ نہیں ؟‘‘ انہوں نے اچٹتی ہوئی نگاہیں ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’جی، ہماری نسل میں اسے اعتماد کہتے ہیں۔ البتہ بڑوں کی عزت کرنا بھی جانتے ہیں۔ ‘‘ مَیں نے شوخی سے کندھے اچکائے۔
پھر ملکہ نے گھنٹی بجائی۔ مجھے لگا کہ اب محافظ آئیں گے اور میری اس تاریخی مہم کا اختتام حوالات میں ہوگا۔ لیکن ایک ملازم چائے لے آیا۔ ’’پہلے چائے پیو، پھر تمہاری اس عجیب نسل کے متعلق بات کریں گے، ‘‘ ملکہ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
مَیں نے چائے کا کپ اٹھایا ہی تھا کہ میری نظر میز پر کھلی ڈائری پر پڑی جس کے صفحات پر اردو کے الفاظ درج تھے۔ سلطنتِ برطانیہ کی ملکہ، اردو سیکھ رہی ہیں ؟ وہ زبان جسے ہمارے ہاں بعض لوگ جدید تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مَیں ان خیالوں میں گم تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک ہندوستانی اندر داخل ہوا۔ یہ منشی عبدالکریم تھے، جن کا نام ملکہ وکٹوریہ کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہے۔ ملکہ نے ایک کاغذ پر لکھا ہوا لفظ پڑھا، مگر تلفظ درست نہ تھا۔ انہوں نے منشی کی طرف دیکھا۔ ’’دوبارہ بتائیے، منشی جی! ہم اسے درست پڑھنا چاہتے ہیں۔ ‘‘ عبدالکریم نے لفظ دہرایا۔ اس بار ملکہ نے درست تلفظ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ دُبلا پتلا لڑکا ڈاکٹر عبدالکلام ہے
مَیں نے خوش ہوکر کہا، ’’شاباش! بالکل درست!‘‘ ملکہ نے فوراً نگاہ اٹھائی۔ ’’ہم تمہارے شاگرد نہیں ہیں کہ تم ہمیں شاباشی دو!‘‘ ’’گستاخی معاف!‘‘ مَیں نے سر جھکا کر عرض کیا، ’’مگر سیکھنے والے کی حوصلہ افزائی تو بنتی ہے۔ ‘‘ اس بار ملکہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔ کچھ دیر بعد مَیں نے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو ذہن میں ابتدا سے گردش کر رہا تھا۔ ’’حضور! آپ کو اردو سیکھنے کا خیال کیسے آیا؟‘‘ ملکہ نے جواب دیا، ’’ہم ہندوستان کے لوگوں، ان کی زبان اور ان کے رہن سہن کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ کسی قوم کی زبان سیکھنے سے اس کے لوگوں سے رابطہ آسان ہوتا ہے۔ ‘‘ ان کی دلچسپی صرف زبانی جمع خرچ نہیں تھی۔ ایک ایسی ملکہ، جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، کا اردو سیکھنے کیلئے وقت نکالنا اور باقاعدہ ہوم ورک کرنا تاریخ کا ایک منفرد اور لائقِ تحسین باب ہے۔ مَیں نے انہیں بتایا کہ ان کی اور عبدالکریم کی زندگی سے متاثر ہو کر ’’وکٹوریہ اینڈ عبدل‘‘ نامی فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔ وہ چونکیں۔ ’’فلم؟ ہماری زندگی پر؟‘‘
’’جی! لیکن فلم میں واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ تاریخی ریکارڈ، خطوط اور ڈائریاں ماضی کو سمجھنے کے دوسرے ذرائع ہیں، ویسے آپ کبھی ہندوستان کیوں نہیں آئیں ؟‘‘ میرے سوال پرملکہ خاموش رہیں۔ مَیں نے محسوس کیا کہ شاہی اختیارات کے باوجود انسان کی بعض خواہشیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ مَیں نے پوچھا، ’’مَیں ۱۸۵۷ء کے بعد کے ہندوستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر آپ سے کچھ جاننا چاہتی ہوں۔ ‘‘ اب ان کی مسکراہٹ بدل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: سلطان شمس الدین التمش کا مہمان بننے پر مجھے فخر محسوس ہورہا تھا
اُن کی استفہامیہ نظروں میں اجازت تھی، مَیں نے سوال داغ دیا، ’’کیا آپ واقعی ہندوستانیوں کو یہ یقین دلانا چاہتی تھیں کہ اب ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا؟‘‘ ’’حکومت کو امن اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘ ملکہ نے جواب دیا۔ ’’مگر امن کے ساتھ آزادی بھی تو ضروری ہے!‘‘ مَیں نے فوراً کہا۔ ’’تم سوال بہت کرتی ہو۔ ‘‘ ان کی ہلکی مسکراہٹ میں رعب تھا، مگر میری بے تکلفی انہیں پہلے کی طرح ناگوار نہیں لگ رہی تھی۔
اچانک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔ سب دھندلانے لگا اور اگلے ہی لمحے مَیں وکٹوریہ میموریل کی رائل گیلری میں تھی۔ وکٹوریہ میموریل سے نکلتے ہوئے ایک سوال دل و دماغ میں گونجتا رہا: ’’جب ایک ملکہ اردو سیکھ سکتی ہے، تو ہم اپنی ہی زبان سے کیوں کتراتے ہیں؟‘‘
شاید اس کا جواب تاریخ میں نہیں، ہمارے اپنے رویوں میں پوشیدہ ہے۔
کالم نگار ہدیٰ انگلش اسکول، بھیونڈی میں معلمہ ہیں اور تعلیمی انقلاب کی سابق طالبہ ہیں