Updated: February 05, 2026, 3:34 PM IST
| Pune
ممبئی۔ پونے ایکسپریس وے پر گیس ٹینکر الٹنے سے پیدا ہونے والے طویل ٹریفک جام نے ہزاروں مسافروں کو گھنٹوں پھنسائے رکھا، جس سے ہنگامی انتظامات کی سنگین کمی سامنے آ گئی۔ اس ٹریفک جام میں پھنسنے والوں میں ای کے اے موبیلیٹی اور پِنیکل انڈسٹریز کے چیئرمین سدھیر مہتا بھی شامل تھے۔ انہوں نے پونے پہنچنے کیلئے ہیلی کاپٹر کا انتظام کیا۔
سدھیر مہتا ہیلی کاپٹر سے پونے جاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
ممبئی۔ پونے ایکسپریس وے پر شدید ٹریفک جام کے باعث ایک صنعتکار کو آٹھ گھنٹے تک شاہراہ پر پھنسے رہنے کے بعد پونے پہنچنے کیلئےہیلی کاپٹر لینا پڑا۔ اس واقعے نے ہندوستان کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک پر بدترین خلل اور ہنگامی انخلا کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کو نمایاں کیا۔ تقریباً۲۴؍ گھنٹوں سے جاری یہ ٹریفک جام اس وقت شروع ہوا جب رائے گڑھ ضلع کے بور گھاٹ کے علاقے میں آدوشی سرنگ کے قریب انتہائی آتش گیر پروپیلین گیس لے جانے والا ایک گیس ٹینکر الٹ گیا۔ حفاظتی اقدام کے طور پر حکام نے ایکسپریس وے کے اہم حصوں پر ٹریفک کی آمد و رفت روک دی، جس کے نتیجے میں غیر معمولی گرڈلاک پیدا ہو گیا اور ہزاروں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک پھنسی رہیں۔
اس جام میں پھنسنے والوں میں ای کے اے موبیلیٹی اور پِنیکل انڈسٹریز کے چیئرمین سدھیر مہتا بھی شامل تھے۔ اپنی گاڑی میں تقریباً آٹھ گھنٹے گزارنے اور آگے بہت کم پیش رفت دیکھنے کے بعد، مہتا نے پونے پہنچنے کیلئے ہیلی کاپٹر کا انتظام کیا۔
اپنے ہیلی کاپٹر سفر کی فضائی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مہتا نے کہا:’’ایک گیس ٹینکر کی وجہ سے گزشتہ۱۸؍ گھنٹوں سے ممبئی۔ پونے ایکسپریس وے پر لاکھوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ‘‘مہتا نے ایکسپریس وے کے مختلف اسٹریٹجک مقامات پر بنیادی ہیلی پیڈز کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ایسی سہولتیں ہنگامی حالات میں تیز تر انخلا کو ممکن بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہیلی پیڈز کی لاگت اور زمین کی ضرورت اس نوعیت کے بڑے خلل کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مولٹ بُک: سیکوریٹی خدشات، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کیا
انہوں نے ایکس (X) پر لکھا:’’ایسی ہنگامی صورتحال کیلئے ہمیں ایکسپریس وے پر مختلف مقامات پر ایسے اخراجی راستوں کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے جنہیں کھول کر گاڑیوں کو واپس جانے دیا جا سکے۔ ہیلی پیڈ بنانے کی لاگت ۱۰؍ لاکھ روپے سے کم ہوتی ہے اور ایک ایکڑ سے بھی کم کھلی جگہ درکار ہوتی ہے۔ ہنگامی انخلا کیلئے ایکسپریس وے کے قریب مختلف مقامات پر ان کا ہونا لازمی ہونا چاہئے۔ نتن ویلڈے، آج آٹھ گھنٹے پھنسے رہنے کے بعد مجھے پونے واپس پہنچانے میں مدد کیلئے شکریہ۔ ‘‘
بتایا جا رہا ہے کہ اس روٹ پر گاڑیوں کیلئے دو لین کھول دی گئی ہیں۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے مکمل طور پر معمول پر آنے میں رات گئے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔