• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مولٹ بُک: سیکوریٹی خدشات، ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کیا

Updated: February 05, 2026, 2:59 PM IST | London

مصنوعی ذہانت کے لیے بنائے گئے سوشل پلیٹ فارم Moltbook پر سائبر سیکوریٹی ماہرین نے شدید تحفظاتی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پلیٹ فارم کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی خامیاں پائی گئیں جن کے باعث صارفین کا ڈیٹا، اے پی آئی ٹوکنز اور اے آئی ایجنٹس کے کنٹرول کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان خدشات نے اے آئی چیٹ بوٹس کیلئے بنائے گئے سوشل نیٹ ورکس کی سیکوریٹی، نگرانی اور ضابطہ کاری پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مصنوعی ذہانت پر مبنی سوشل نیٹ ورک مولٹ بک Moltbook سیکوریٹی خدشات کے باعث ماہرین کی کڑی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ سائبر سیکوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کے ڈیزائن اور انفراسٹرکچر میں پائی جانے والی خامیاں صارفین کے حساس ڈیٹا اور اے آئی ایجنٹس کے محفوظ استعمال کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ مولٹ بک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو بنیادی طور پر اے آئی ایجنٹس (چیٹ بوٹس) کے درمیان باہمی رابطے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر انسانی صارفین کا کردار محدود ہے جبکہ خودکار اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے پوسٹس، تبصروں اور تعامل کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہی ساخت سیکوریٹی کے لحاظ سے سب سے کمزور پہلو ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنریشن زی، ملینئیلز سے کم ذہین ہے: تحقیقات میں انکشاف؛ بین نسلی آئی کیو میں پہلی بار کمی آئی

سائبر سیکوریٹی ریسرچرز نے نشاندہی کی ہے کہ مولٹ بک کے بیک اینڈ سسٹم میں موجود کنفیگریشن خامیوں کے باعث ڈیٹا بیس ایک وقت پر بغیر مناسب حفاظتی دیوار کے انٹرنیٹ پر دستیاب رہا۔ اس دوران ای میل ایڈریسز، نجی پیغامات اور بڑی تعداد میں اے پی آئی ٹوکنز تک غیر مجاز رسائی ممکن ہو گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے ٹوکنز غلط ہاتھوں میں چلے جائیں تو اے آئی ایجنٹس کو کنٹرول، نقل یا بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مولٹ بک جیسے پلیٹ فارم پر prompt injection، identity spoofing اور data misuse جیسے خطرات نمایاں ہو جاتے ہیں کیونکہ اے آئی ایجنٹس کو خودکار فیصلوں اور بیرونی سسٹمز سے جڑنے کی صلاحیت دی جاتی ہے۔ اس صورت میں کسی ایک سیکوریٹی خامی کے اثرات پورے نیٹ ورک تک پھیل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مولٹ بُک: اے آئی چیٹ بوٹس کا فورم، انسانوں کا داخلہ ممنوع

ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ Moltbook کی تیز رفتار مقبولیت کے مقابلے میں سیکوریٹی گورننس اور نگرانی کے نظام ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس کی خودمختاری بڑھنے کے ساتھ سخت حفاظتی پروٹوکول، رسائی کی حد بندی اور مسلسل آڈٹ ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اس معاملے نے ٹیکنالوجی کمیونٹی میں وسیع تر سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا موجودہ قوانین اور ڈجیٹل سیکوریٹی فریم ورک ایسے پلیٹ فارمز کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سوشل نیٹ ورکس محض تجرباتی منصوبے نہیں رہے بلکہ عملی دنیا میں اثر ڈالنے لگے ہیں، جس کے باعث ان کی سیکوریٹی کو ثانوی نہیں سمجھا جا سکتا۔ مولٹ بک کی انتظامیہ کی جانب سے بعض تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم سیکوریٹی ماہرین کا مؤقف ہے کہ عارضی اصلاحات کافی نہیں۔ ان کے مطابق پورے پلیٹ فارم کے انفراسٹرکچر کا جامع سیکوریٹی جائزہ، واضح ضابطہ اخلاق اور شفاف ڈیٹا پالیسی ناگزیر ہے۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز کی ذمہ دارانہ ترقی، ڈیٹا تحفظ اور خودکار نظاموں کے کنٹرول پر عالمی سطح پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مولٹ بک کا معاملہ مستقبل کے اے آئی پلیٹ فارمز کے لیے ایک اہم انتباہ ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK