• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبرا: دھماکہ خیزمادہ ملنے کے کیس سے ۳؍ ملزمین ۸؍ سال بعد بری

Updated: February 05, 2026, 4:27 PM IST | Nadeem Asran | Mumbra

غوثیہ کمپاؤنڈ معاملہ کو میڈیا نے دہشت گردی سے جوڑا تھا۔ ناکافی ثبوتوں پر عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا۔

The accused (in masks) who have been acquitted, while inset is the car from which the explosives were recovered. Photo: INN
ملزمین (نقاب میں )جنہیں بری کردیا گیا ہے جبکہ انسیٹ میں وہ کار جس سے دھماکہ خیزمادہ برآمد کیا گیا تھا۔ تصویر: آئی این این

۷؍ اگست ۲۰۱۷ء کو ممبرا، کوسہ کا نام ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب پولیس نے اس علاقے کے غوثیہ کمپاؤنڈ میں دھماکہ خیز مادہ جس میں ڈیٹونیٹر بھی شامل تھا، ایک پرانی اسکارپیو کار سے ضبط کئے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے اس معاملے میں ۳؍ افراد کو گرفتار کیا تھا جس پر میڈیا نے اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جوڑ دیا تھا۔ تاہم پولیس نے ۱۰؍ گھنٹے میں اس معاملہ میں ۳؍ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد اس تعلق سے ملزمین کے کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا کسی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہونے کی تردید کی تھی۔ اب عدالت نے اس کیس میں ضمانت پر رہا تینوں ملزمین کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر رہا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ 
تھانے کی مقامی کورٹ نے۸؍ سال کے طویل عرصہ کے بعد جن تین ملزمین کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر کیس سے بری کیا ہے، ان میں مہینسا راجے صاحب گنور عرف مہیش، شاہ عالم شیخ اور عارف خان شامل ہیں ۔ ملزمین کی گرفتاری اور آپسی رنجش کے سبب غوثیہ کمپاؤنڈ میں اسماعیل شیخ کے گیراج میں ایک پرانی کار سے برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مادہ پر روشنی ڈالتے ہوئے وکیل استغاثہ نے کورٹ کو بتایا کہ ’’ ملزمین نے اسماعیل شیخ نامی شخص سے دشمنی اور چند لاکھ روپے وصول کرنے کیلئے ایک سازش کے تحت دھماکہ خیز مادہ کار میں رکھا تھا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم راجے صاحب گنور عرف مہیش کی اسماعیل سے کاروباری رنجش تھی اور وہ اسماعیل کو دھماکہ خیز مادہ رکھ کر پھنسانا چاہتا تھا۔ وکیل نے مزید کہا کہ ملزم مہیش نے چند لاکھ روپے نہ ملنے پر اسماعیل شیخ کے گیراج میں کھڑی ایک پرانی کار میں ۹؍ڈیٹونیٹر اور۱۰؍ کلو گرام امونیم نائٹریٹ رکھوایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : جی آئی ایس سروے سے جائیداد ٹیکس نظام میں اہم اصلاح

اس کیلئے اس نے ملزم شاہ عالم شیخ اور عارف خان کی مددلی تھی۔ یہی نہیں شاہ عالم نے ہی کلیان   ریلوے پولیس کو ممبرا کوسہ کے غوثیہ کمپاؤنڈ کےگیراج میں دھماکہ خیز مادہ ہونے کی اطلاع دی تھی اور ریلوے پولیس نے شیل ڈائے گھر پولیس اور  اے ٹی ایس کو اس کی اطلاع دی تھی۔ سرچ آپریشن کے دوران دھماکہ خیز مادہ برآمد کیاگیا تھا۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ یہ دھماکہ خیز مادہ جو پہاڑوں کو توڑنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، ڈومبیولی سے خریدا گیا تھا۔ دفاع نے یہ دلیل دی تھی کہ استغاثہ اب بھی میرے موکلوں کے خلاف دھماکہ خیز مادہ خریدنے اور اسے رکھنے کا واضح ثبوت پیش نہیں کر سکا ہے اور کوئی ٹھوس گواہ بھی پیش نہیں کیا گیاہے۔ ان کے خلاف اب بھی پولیس ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ فریقین کی بحث سننے کے بعد کورٹ نے دفاع کی دلیل کو قبول کرکے ملزمین کو کیس سے بری کر دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK