انتظامیہ کے مطابق اس سروے کے ذریعے شہر میں موجود ہر جائیداد کو ڈیجیٹل نقشے پر درج کیا جا رہا ہے جس سے غیر اندراج شدہ جائیدادوں کی شناخت ممکن ہورہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 2:49 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
انتظامیہ کے مطابق اس سروے کے ذریعے شہر میں موجود ہر جائیداد کو ڈیجیٹل نقشے پر درج کیا جا رہا ہے جس سے غیر اندراج شدہ جائیدادوں کی شناخت ممکن ہورہی ہے۔
میونسپل کارپوریشن نے جائیداد ٹیکس کی شفاف اور منصفانہ وصولی کو یقینی بنانے کے لیے جی آئی ایس (جیوگرافک انفارمیشن سسٹم) سروے کا آغاز کر دیا ہے جس کے ابتدائی نتائج نے ٹیکس انتظامیہ کی برسوں پرانی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سروے کے تحت اب تک ہزاروں ایسی جائیدادوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جو یا تو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر تھیں، یا پھر اپنے اصل رقبے سے کم رقبہ ظاہر کر کے کم جائیداد ٹیکس ادا کر رہی تھیں۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق، جی آئی ایس سروے کے ذریعے شہر میں موجود ہر جائیداد کو ڈیجیٹل نقشے پر درج کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کی شناخت ممکن ہو رہی ہے بلکہ رقبے، تعمیر کی نوعیت اور استعمال میں کی گئی تبدیلیاں بھی واضح ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی پونے ایکسپریس وے ۲۴؍ گھنٹے بند
انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس سروے کی تکمیل کے بعد جائیداد ٹیکس کی وصولی میں آنے والے برسوں میں نمایاں اور پائیدار اضافہ ہوگا۔ ڈپٹی میونسپل کمشنر (جائیداد ٹیکس) بال کرشن شیرساگر نے بتایا کہ یہ سروے ’ریفلیٹ‘ اور ’میپ مائی انڈیا (ایم ایم آئی)‘ جیسے ماہر اداروں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ اب تک۸؍ ہزار۶۰۰؍ جائیدادوں کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جن میں سے تقریباً۴۰؍ فیصد یعنی۳؍ ہزار۴۰۰؍ جائیدادوں کے رقبے میں فرق پایا گیا ہے۔ ان میں سے۴۰۶؍ جائیداد مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اصل دستاویزات اور تعمیراتی اجازت نامے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ برسوں سے جائیداد ٹیکس کی کم وصولی کی ایک بڑی وجہ یہی رہی ہے کہ متعدد جائیدادیں یا تو ریکارڈ میں شامل ہی نہیں تھیں یا جان بوجھ کر کم رقبہ ظاہر کر کے ٹیکس میں بچت کی جا رہی تھی۔ جی آئی ایس سروے کے باعث اب اس طرح کی بے ضابطگیوں پر مؤثر روک لگائی جا سکے گی اور ٹیکس کا بوجھ ایماندار ٹیکس دہندگان پر نہیں پڑے گا۔ میونسپل کمشنر انمول ساگر کی رہنمائی میں شروع کیے گئے اس ڈیجیٹل اقدام کو شہری نظم و نسق میں ایک اہم اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میرابھائندر میں مراٹھی میئر کیلئے مراٹھی ایکیکرن سمیتی کا گزشتہ روز احتجاج
حکام کے مطابق، جی آئی ایس ڈیٹا کو جائیداد ٹیکس نظام سے جوڑنے کے بعد نہ صرف وصولی میں شفافیت آئے گی بلکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا غلط بیانی کا امکان بھی کم ہو جائے گا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جن جائیداد مالکان کے رقبے میں فرق یا ٹیکس سے بچنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، انہیں پہلے مرحلے میں دستاویزی ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ تاہم، جان بوجھ کر ٹیکس چوری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ میونسپل کارپوریشن کا ماننا ہے کہ جی آئی ایس سروے نہ صرف جائیداد ٹیکس وصولی میں اضافہ کرے گا بلکہ شہری ترقی کے منصوبوں، بنیادی سہولتوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بھی ایک مضبوط ڈیجیٹل بنیاد فراہم کرے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سروے کے عمل میں تعاون کریں اور اپنی جائیداد کی درست معلومات فراہم کر کے شہر کی منصفانہ اور شفاف ترقی میں حصہ دار بنیں۔