• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظفرنگر فساد: ۳۲؍ ملزموں کے بری ہونے پر ملی و سماجی تنظیموں اورشخصیات کا اظہارِ تشویش

Updated: February 26, 2026, 11:30 PM IST | Muzaffarnagar

فیصلے کو جانبدارانہ قراردیتے ہوئےکہا کہ اس سے متاثرہ خاندانوں کو دھچکا پہنچا ہے،تفتیشی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر زور

Riots broke out in Muzaffarnagar in 2013. (File photo)
مظفر نگر میں۲۰۱۳ء میںفسادات پھوٹ پڑے تھے۔(فائل فوٹو)

مظفرنگر ۲۰۱۳ ء کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق گاؤں کُٹبا میں ہوئے قتل و آتش زنی سے متعلق مقدمہ میں مقامی عدالت کی جانب سے۳۲؍ ملزموں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کیے جانے کے بعد ضلع بھر میں بحث کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ مختلف ملی، دینی اور سماجی شخصیات نے فیصلہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمہ کے انجام نے متاثرہ خاندانوں کے ذہنوں میں انصاف کی فراہمی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔یاد رہے کہ ستمبر۲۰۱۳ء میں ضلع کے قصبہ شاہپور تھانہ علاقہ میں واقع گاؤں کُٹبا میں پیش آئے پُرتشدد واقعہ میں ۸؍ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعہ کے بعد قتل، آتشزنی، لوٹ مار اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے ۔
  جامعہ دارالعلوم حسینیہ تاؤلی کے مہتمم مفتی عبدالصمد قاسمی نے کہا کہ ایسے حساس اور سماجی طور پر اہم مقدمات میں اگر تفتیشی عمل مضبوط اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق نہ ہو تو استغاثہ عدالت میں مؤثر مقدمہ پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے ۔ ان کے مطابق فیصلہ سے متاثرین کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے، لہٰذا ریاستی اداروں کو فسادات سے متعلق مقدمات کی سنجیدہ اور مربوط پیروی کو یقینی بنانا چاہئے۔ خلیفہ مجاز بزرگ عالم دین مولانا سید بدرالہدی قاسمی کاندھلوی نے کہا کہ ۲۰۱۳ء کے فسادات نے پورے خطے کی سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا تھا۔ اگر متاثرین کو مکمل انصاف نہ ملے تو معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے استغاثہ اور تفتیشی نظام کی کارکردگی کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ شاہ اسلامک اکیڈمی کے صدر قاری خالد بشیر قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کا فیصلہ قانونی اصولوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوتا ہے، تاہم عوامی اعتماد کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور سماجی اداروں کو مل کر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی۔مدرسہ محمودیہ سروٹ کے استاذ حدیث مفتی زاہد قاسمی نے کہا کہ جدید سائنسی شواہد، مضبوط شہادتیں اور مستحکم قانونی تیاری کے بغیر اس نوعیت کے مقدمات میں سزا کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے تفتیشی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور استغاثہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں بہتری پر زور دیا۔
 تحفظ دین ختم نبوت کے صوبائی صدر مولانا سہیل اختر رحیمی نے کہا کہ پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری، نفسیاتی معاونت اور معاشی بحالی کے اقدامات کو بھی ناگزیر قرار دیا۔محبوب عالم انصاری ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات جیسے پیچیدہ مقدمات میں گواہوں کا تحفظ، شواہدکی دستیابی اور ان کی حفاظت، فورینسک سہولیات کا مؤثر استعمال اور استغاثہ کی مربوط حکمت عملی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے ۔ ناکافی یا کمزور شہادتیں اکثر عدالتی فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ادھر متاثرہ خاندانوں میں مایوسی کی فضا پائی جا رہی ہے اور ذرائع کے مطابق وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپیل کا حق آئینی و قانونی دائرے میں محفوظ ہے اور اعلیٰ عدلیہ شواہد اور قانونی نکات کا ازسر نو جائزہ لے سکتی ہے۔مظفرنگر ۲۰۱۳ء کے فرقہ وارانہ فسادات سے وابستہ مقدمات ایک بار پھر قومی سطح پر گفتگو کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں انصاف، شفافیت، تفتیشی نظام کی مضبوطی اور سماجی ہم آہنگی جیسے اہم پہلو زیر بحث ہیں۔ مبصرین کے مطابق پائیدار امن اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ قانونی عمل شفاف، تیز رفتار اور متاثرین کے لیے قابلِ اطمینان ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK