یوپی  بہار پر اسرار بخارکی زد میں، خوف کا ماحول، علاج میں دقت

Updated: September 22, 2021, 11:06 AM IST | Inquilab News Network | Patna

بہار :بچوں کی ایک بڑی تعداد پراسرار بخارمیں مبتلا ۔ پی ایم سی ایچ ، آئی جی آئی ایم ایس این ایم سی ایچ اور ایمس جیسے اسپتالوں میں جگہ نہیں، ۵۰؍ فیصد بچوں میں نمونیا کی تصد یق

A child is being treated at a hospital in Patna. P.Picture:INN
پٹنہ کے ایک اسپتال میں زیر علاج بچہ۔ تصویر : انقلاب

: بہار میں کم سن بچوںپر مسلسل ’پراسرار‘ بخار کا حملہ ہور ہا ہے۔ اس کا زور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں بیڈ فل ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں بھی بچوں کے وارڈوں میں بستر مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ برسات کی گرمی کے درمیان بچوں میں بخار کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے ڈاکٹر بھی پریشان ہیں۔ پٹنہ میں پی ایم سی ایچ ، آئی جی آئی ایم ایس ، این ایم سی ایچ اور ایمس میں ہر روز وائرل سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پیڈیاٹرک وارڈ اور آئی سی یو بھرا ہوا ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں بستر کئی دنوں سے بھرے  ہوئے ہیں۔ مہاویر واتسالیہ کے ساتھ ساتھ دیگر اسپتالوں میں بچوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور بیڈفل ہیں۔
کچھ  بچے ۱۵؍ سے ایک ماہ کے
 درمیان صحت یاب ہورہے ہیں
  پٹنہ میں ہرش کلینک کی ڈاکٹر سمن کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ بچوں میں بخار کی شدت کی وجہ سے انہیں ایڈمٹ کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے بچوں  کا بخار ٹھیک ہونے میں۱۵؍ دن سے ایک مہینہ  تک لگ رہا ہے۔
  اہم بات یہ ہے کہ دارالحکومت پٹنہ کے میڈیکل کالجوں اور پرائیویٹ اسپتالوں کے ساتھ ساتھ پرائمری ہیلتھ سینٹر اور سب ڈویژنل اسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ ہے۔ دانا پور ، بہٹا ، مسوڑھی ، پالی گنج ، پھلواری ، نوبت پور ، بکرم کے سرکاری اسپتالوں میں بھی روزانہ بڑی تعدا دمیں کم سن بچوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔
ایک ہفتے سے مریضو ں کی تعداد میں اضافہ 
  ایک ہفتے میں وائرل اور نمونیا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ تیز بخار   کے مریضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک ہفتے میں۲۵۰؍سے زائد مریض داخل کئے گئے ہیں۔ بچوں پر وائرل کا حملہ دن بہ دن بڑھتاجارہا ہے۔ معلومات کے مطابق ایک سال اور اس سے کم عمر کے۱۰۰؍ سے زائد بچوں کو۵؍ دن میں پی ایم سی ایچ،آئی جی آئی ایم ایس،این ایم سی ایچ اورایمس کےاین آئی سی یومیں داخل کیا گیا ہے۔ ان میں سے۵۰؍ فیصد نمونیہ میں مبتلا ہیں۔ تیز بخار اور وائرل فیور کے مریضوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ یادرہے کہ گوپال گنج میں ۱۰؍بچے بھی  پراسرار بخار کی وجہ سے مر چکے ہیں،حالانکہ محکمۂ صحت نے اسے ڈینگواور وائرل فیور بتایا ہے ۔ ہر روز ۱۵؍سے۲۰؍ نومولود صدراسپتال پہنچ رہے ہیں۔اسپتال کے خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ کے تمام۱۵؍ بستر بھرے ہوئے ہیں۔ماہر اطفال کے مطابق اس یونٹ میں صرف۲۸؍ دن تک بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہاں۱۵؍ بچوں کے علاج کی سہولت ہے۔ اس وقت یونٹ میں صورتحال ایسی ہے کہ۱۷؍ بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے ساتھ آنے والے تیماردار اسپتال کے سامنے شیڈ میں دن رات گزار رہے ہیں۔ گزشتہ۱۰؍ دنوں میں وائرل بخار اور نمونیا کے ۵۵؍ سنگین مریضوں کو پی ایم سی ایچ پکو میں داخل کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK