آج ملک میں نریندرمودی کی پوجا کرنےوالوں کو سب کچھ مل رہا ہے: راہل گاندھی

Updated: November 30, 2022, 12:59 AM IST | ujjain

’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ملک کے حقیقی ’سنیاسیوں‘ کے حقوق چھینے جارہے ہیں

Rahul`s `Bharat Jodo Yatra` has covered a distance of more than 2,000 km
راہل کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ ۲؍ ہزار کلومیٹرسے زیادہ کا فاصلے طے کرچکی ہے

 ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران وزیراعظم مودی کونشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ آج جو لوگ مودی کی پوجا کر رہے ہیں، انہیں سب کچھ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ   وہ کوئی فرد ہویاصنعتکار، اس ملک میں وزیر اعظم مودی کی ’پوجا‘ کرنے والوں کوہی سب کچھ مل رہا ہے لیکن کسانوں،مزدوروں، نوجوانوںاور چھوٹے تاجروں  جیسے حقیقی ’سنیاسیوں‘ کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ’بھارت  جوڑو یاترا‘ کے دوران شام کو مدھیہ پردیش کے اجین میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے اجین میں مشہور ’مہاکال مندر‘ کا درشن بھی کیا۔  جلسہ عام میں ریاستی صدر کمل ناتھ اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود تھے۔
  راہل گاندھی نے اپنی تقریر کا آغاز ’جے مہا کال‘  سے کیا۔ تقریباً۲۵؍ منٹ کی تقریر میں  انہوں نے کہا کہ مہاکال مندر بھگوان شیو کا ہے۔ بھگوان شیو کے علاوہ، شری رام اور شری کرشن سمیت سبھی نے تپسیا کی۔ اسی طرح ہمارے ملک  میں بھی کسان، مزدور، نوجوان، چھوٹےاور درمیانے درجے کے تاجر اور میڈیا پارٹنرز بھی روزانہ جدوجہد کر رہے ہیں لیکن مرکز کی مودی سرکار ان  سادگی پسند لوگوں کا حق چھین کر ان کی جیبوں سے پیسہ نکال کر ملک کے دو  پانچ بڑے صنعت کاروں کو دے رہی ہے۔
 راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے چوٹی  کے چار پانچ صنعتکار مودی کی پوجا کرتے ہیں۔ سب کچھ ان صنعتکاروں کو دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی ساری دولت انہی کے حوالے کی جارہی ہے۔ ریلوے،   بندرگاہیں، ہوائی اڈے، سڑکیں، بجلی اور پانی سب ان کے حوالے کیا جا رہا ہے۔مودی حکومت نے نوٹ بندی   اور جی ایس ٹی نافذصرف بڑے صنعت کاروں کو فائدہ  پہنچانے کیلئے کیا۔ کووڈ بحران کے دوران بھی مودی حکومت کی پالیسیاں غریبوں کے مفاد میں نہیں تھیں۔ اس طرح ملک کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
 اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو کنیا کماری سے شروع  ہوئی تھی،  انہوںنے کہا کہ وہ اب تک۲؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ  کا فاصلہ طے کر چکے ہیں لیکن یہ کوئی تپسیا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حقیقی جہدکار کسان، مزدور، نوجوان اور چھوٹے تاجر ہیںجو روزانہ تپسیا کر رہے ہیں لیکن انہیں اس کا پھل نہیں مل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK