۱۶؍ تا ۲۶؍ اگست ’پیغامِ رحمت ِ عالمؐ ‘ مہم۔ ۱۷؍ ریاستوں کے ایک ہزار مقامات پر عوامی بیداری کی کوشش کی جائے گی
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 11:44 PM IST | Aurangabad
۱۶؍ تا ۲۶؍ اگست ’پیغامِ رحمت ِ عالمؐ ‘ مہم۔ ۱۷؍ ریاستوں کے ایک ہزار مقامات پر عوامی بیداری کی کوشش کی جائے گی
وحدتِ اسلامی ہند کی جانب سے ۱۶؍ تا ۲۶؍اگست ملک گیر سطح پر ’’پیغامِ رحمت ِ عالمؐ ‘مہم منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سال مہم کا مرکزی موضوع ’ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘ رکھا گیا ہے جبکہ اس کے تحت خودکشی، دخترکشی، نشہ اور فضائی آلودگی جیسے سنگین سماجی مسائل کو خصوصی طور پر اجاگر کیا جائے گا۔وحدتِ اسلامی ہند کے امیر محمد ضیاء الدین صدیقی نے اسی سلسلہ میں اورنگ آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا مختلف سماجی، اخلاقی اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے اور ہمارا ملک بھی ان مسائل سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مسائل کے حل کیلئے اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ؐکی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ انسانیت کیلئے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اخلاق، عبادات، معاملات، خاندانی زندگی ہو یا معاشرتی تعلقات، ہر شعبۂ زندگی میں کامیابی کیلئے نبی کریم ؐکی سنت اور آپ ؐ کا طریقۂ زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ ’پیغامِ رحمت ِ عالم ؐ ‘مہم کے ذریعے اسی انسانیت نواز اور رحمت بھرے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں خودکشی کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ خودکشی آج دنیا کے سنگین ترین عوامی صحت اور سماجی بحرانوں میں شامل ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد خودکشی کے باعث اپنی جان گنواتے ہیں جبکہ خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔مہم کے ذمہ داران کے مطابق دستیاب عالمی اعداد و شمار میں متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں خودکشی کی شرح نسبتاً کم پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام خودکشی کو صرف اخلاقی برائی نہیں بلکہ انسانی جان کے تقدس کے خلاف ایک سنگین عمل قرار دیتا ہے۔ مہم کے دوسرے اہم موضوع دخترکشی اور رحمِ مادر میں بچیوں کے قتل پر کہا گیا کہ یہ دورِ حاضر کا انتہائی سنگین سماجی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے۔ اس عمل نے نہ صرف خاندانی نظام بلکہ معاشرتی توازن اور انسانی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
نشہ آوری کو بھی مہم کا اہم موضوع بنایا گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ نشہ اب پوری دنیا کیلئے ایک سنگین بحران بن چکا ہے۔