Updated: June 02, 2026, 7:47 AM IST
| New Delhi
یوتھ کانگریس نے وزارت تعلیم کے دفتر میںمبینہ آتشزدگی کے واقعے پر شدید رد عمل ظاہرکرتے ہوئے سی بی ایس ای معاملہ میں حکومت پر ثبوت مٹانے کی
سازش کا الزام لگایا ،پیپرلیک اور مسلسل سامنے آنے والی دیگربے ضابطگیوںپروزیرتعلیم کے استعفے کا مطالبہ ،مشعل جلوس اورہلہ بول مورچہ نکالنے کا فیصلہ
یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانوچب نے کہا ہے کہ بے ضابطگیوں کی سچائی سامنے آکر رہے گی
یوتھ کانگریس کے صدر اُدے بھانو چب نے وزارت تعلیم کے ایک کمرے میں آگ لگنے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت ثبوتوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہئے۔ واضح رہےکہ حکومت نے عین وزارت تعلیم کے دفتر میں آگ لگنے کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکٹیکچر، ایس پی اے کے احاطے میں ہوا تھا لیکن یوتھ کانگریس نے اس موضوع پرحکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
یوتھ کانگریس کے قومی میڈیا انچارج ورون پانڈے نے پیر کوبتایا کہ تعلیمی نظام سے جڑے حالیہ واقعات کیلئے جوابدہی طے کیے جانے کے مطالبے کے حق میں تنظیم ملک گیر تحریک کو مزید تیز کرے گی۔ اس کے تحت مختلف ریاستوں میں مشعل جلوس، ہلہ بول مارچ، طلبہ ڈائیلاگ پروگرام، راج بھونوں کا گھیراؤ، وزرائے اعلیٰ کی رہائش گاہوں کے باہر مظاہرے، بی جے پی وزراء، اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ضلع سطح پر طلبہ کو متحرک کرنے کی مہم اور عوامی رابطہ پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک کے تحت ۲؍ جون کو ممبئی، ۳؍ جون کو تلنگانہ، ۴؍ جون کو آسام، ۶؍ جون کو ہریانہ، ۷؍جون کو مدھیہ پردیش، ۸؍ جون کو جھارکھنڈ،۱۰؍ جون کو راجستھان،۱۱؍ جون کو چھتیس گڑھ،۱۳؍ جون کو گجرات،۱۴؍ جون کو چندی گڑھ،۱۵؍ جون کو پنجاب،۱۶؍ اور۱۷؍ جون کو گوالیار اور۲۰؍ جون کو تمل ناڈو میں پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔
ورون پانڈے نے بتایا کہ اُدے بھانو چب کا کہنا ہے کہ ملک کا ہرنوجوان پیپر لیک اور امتحانات سے متعلق مبینہ گھوٹالوں پر دھرمیندر پردھان کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں وزارت تعلیم کے دفتر میں آگ لگنے کا واقعہ کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوںنے الزام لگایا کہ یہ واقعہ ثبوتوں کو دبانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت چاہے جتنی کوشش کر لے، حقائق کو ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا اور امتحانی نظام میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے لیے جوابدہی طے کرنی ہی ہوگی۔ حال ہی کے دنوں میں امتحانی گھوٹالوں، انتظامی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام سے جڑے کئی معاملات کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ مسلسل تیز ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان مسائل پر جواب دینے کے بجائے توجہ بھٹکانے اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک کے کروڑوں طلبہ اور نوجوان منصفانہ اور شفاف امتحانی نظام چاہتے ہیں۔ تعلیمی نظام میں آئی خامیوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق دھرمیندر پردھان کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
ادے بھانو چب نے کہا کہ انڈین یوتھ کانگریس گزشتہ کئی مہینوں سے کشمیر سے کنیا کماری تک طلبہ کے مسائل کے تعلق سے تحریک چلا رہی ہے۔ نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور دیگر امتحانات میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے اور تنظیم ان مسائل پر جوابدہی طے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کتنی ہی کوشش کر لے لیکن تعلیمی نظام سے جڑے معاملات میں سچائی سامنے آ کر رہے گی۔