’سنگھ‘ کے اس دعوے پر بھی سوال کیا کہ اسے سرکاری فنڈحاصل نہیں ہوتا، کانگریس لیڈر نے کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہئے ان کے ٹیکس کی رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے؟
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 9:42 AM IST | Bengaluru
’سنگھ‘ کے اس دعوے پر بھی سوال کیا کہ اسے سرکاری فنڈحاصل نہیں ہوتا، کانگریس لیڈر نے کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہئے ان کے ٹیکس کی رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے؟
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے پیر کو آر ایس ایس کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ اسے سرکاری فنڈ حاصل نہیں ہوتا۔انہوں نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سرکاری ملکیت والی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) نے گزشتہ دس برسوں کے دوران اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) فنڈ سے سنگھ سے وابستہ۲۰؍ تنظیموں کو۶۶۸؍ کروڑ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی ہے۔
ہری پرساد نے ’ایکس ‘پر ایک پوسٹ میں کہا کہ او این جی سی کی جانب سےاس مبینہ الاٹمنٹ نے ان الزامات کو مزید تقویت دی ہے جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ مندروں کے چندے، آفات سے متعلق امدادی فنڈ، کووڈ ریلیف فنڈ اور سرکاری زمین جیسے عوامی وسائل سنگھ سے وابستہ تنظیموں کو منتقل کئے جاتے رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ ’’اس کے باوجود سنگھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ سرکاری فنڈ نہیں لیتا۔ اگر سرکاری ادارے اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والے وسائل آپ کی تنظیموں کو فنڈ فراہم کر رہے ہیں تو آر ایس ایس خود کو سرکاری رقم سے آزاد کیسے قرار دے سکتا ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: کریٹ سومیا کا مالیگاؤں کے تعلق سے نیا شوشہ
کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ معاملہ اب صرف آر ایس ایس کے غیر رجسٹرڈ ادارہ ہونے کی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ شفافیت، جوابدہی اور عوام کے اس حق سے متعلق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ ’’اب مسئلہ صرف رجسٹریشن کا نہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی اور شہریوں کے اس حق کا ہے کہ عوامی فنڈ کے استعمال کی مکمل معلومات سامنے آئیں۔‘‘
ہری پرساد نے مزیدکہا کہ آر ایس ایس کو اپنے مالی وسائل اور فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ آیا ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم اور اس سے وابستہ اداروں کاسرکاری اداروں سے فنڈ حاصل کرنا درست ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے آر ایس ایس کو جوابدہ بنانے کی ایک عوامی تحریک چل رہی ہے۔