Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، این سی پی (شرد ) کا ریاست گیر احتجاج

Updated: July 21, 2026, 9:25 AM IST | Mumbai

ممبئی ، تھانے، اورنگ آباد، ستارا سمیت مختلف اضلاع میںپارٹی کارکنان نے ضلع کلکٹر دفتر کے باہر نعرے لگائے ، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ۔

Jitendra Uhar and others protesting. Photo: INN
جتیندر اوہاڑ اور دیگر احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

پیر کے روز دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کے لاٹھی چار ج کی این سی پی (شرد) نے مذمت کی  اور ریاست گیراحتجاج کیا ۔ مختلف اضلاع میں ہوئے مظاہروں کے بعد ضلع کلکٹر کو میمورنڈم بھی دیا گیا ۔اس دوران این سی پی(شرد) کے یوتھ ریاستی صدر محبوب شیخ نے مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان پیپر لیک معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دیں جبکہ طلبہ سیل کے ریاستی صدرسنیل گوہانے نے اعلان کیا کہ ملک کے نوجوان آمرانہ رویہ کو نکالے بغیر نہیں رہیں گے۔

  این سی پی (شرد) نے ممبئی اورتھانے کے علاوہ شاہ پور، اکولہ، ستارا، بھنڈارا، اورنگ آباد، اور دیگر اضلاع میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ممبئی میں محبوب شیخ اور سنیل گوہانے کی قیادت میں منعقد ہونے والے ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں طلبہ ،نوجوانوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔  محبوب شیخ نے کہا کہ جمہوریت میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے گفتگوکر کے کوئی راستہ نکالا جائے۔ تاہم جنتر منتر (دہلی)پر کئی دنوں سے جاری احتجاج کو نظر انداز کرکے حکومت نے مظاہرین کو حراست میں لینے کا راستہ اختیار کیا ۔ یہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے جیسا ہے اور مرکزی حکومت آمرانہ برتاؤ کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو پیپر لیک معاملے کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہئے جو کہ ملک بھر کے طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہا ہے۔  سنیل گوہانے نے کہا، ’’طلبہ سے بات کرنے کے بجائے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک کو کچل کر نوجوانوں کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے طلبہ اور نوجوان جمہوریت، آئین اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ملک کے نوجوان آمرانہ رویہ کو نکالے بغیر نہیں رہیں گے۔‘‘

 مظاہرین نے پُرزور مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جو پیپر لیک کے ذمہ دار ہیں اور مہاراشٹر کے وزیر تعلیم دادا بھسے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ پارٹی کارکنان نے واضح انتباہ دیا کہ طلبہ، نوجوانوں اور جمہوری حقوق کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی کے خلاف مستقبل میں ریاست بھر میں ایک مضبوط عوامی تحریک چلائی جائے گی۔اس موقع پر پرمود باگل، سچن نارکر، پرتیک ناندگاؤںکر، ٹوئنکل پرمار، ہارون خان، شاہ آباد پٹیل، شیخ نذیر، وشواس اوہاد سمیت بڑی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔

تھانے میں جے این یو کی طرز پر احتجاج

  اسی طرح کا احتجاج رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ کی قیادت میں  تھانےضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے بھی کیا گیا ۔اس موقع پر جے این ایو کے طلبہ کی طرح ڈفلی بجاکرمظاہرہ کیاگیا ۔ جتیندر اوہاڑ نے کہا کہ۱۹۷۳ء میں بہار اور گجرات میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔ اس احتجاج نے آگ پکڑ لی تھی اور اس کی وجہ سے اندرا گاندھی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ طلبہ پر گولی چلائی گئی،لاٹھی چارج برسائی گئی لیکن پوری دنیا نے دیکھا اس کے بعد کیا ہوا۔ پورے چین نے طلبہ کی ناراضگی دیکھی۔ آپ کو طلبہ کو دبانا نہیں چاہیے۔ بھگت سنگھ۲۳؍ سال کے تھے، راج گرو۲۶؍ سال کے تھے، سکھ دیو۲۶؍سال کے تھے۔ وہ سب کالج جانے والے طالب علم تھے۔ طلبہ کے ذہنوں میں آگ ایک بار بھڑک جائے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ آج ملک بھر سے طلبہ اکٹھے ہوئے ہیں، اور ان کی تحریک کو کسی کی سیاسی حمایت حاصل نہیں، وہ اپنے طور پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ طلبہ پوچھ رہے ہیں کہ وہ ان افراد کو کیوں برداشت کریں جو ان کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ یہ آگ بھڑک اٹھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ملک کو بچانے کی جدوجہد شروع ہو گئی ہے۔

 اس دوران تھانے ضلع صدر منوج پردھان نے کہا کہ آج کا احتجاج واقعی بے مثال ہے۔ پچھلے۲۲؍ دنوں میں ایک فرق آیا ہے کہ طلبہ اور عوام اپنے طور پر سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں۔آج کا احتجاج تمام جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے تھا، لیکن یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ اتنے زیادہ طلبہ خود یہاں آتے ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ وہ۱۲؍ سالوں سے جو کچھ برداشت کر رہے ہیں، اس کے خلاف وہ خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے سڑکوں پر اترنے کی تیاری کر لی ہے، اور یہی اس بات کی علامت ہے کہ ہم آج یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK