مزدور یونینوں کا دعویٰ،کم از کم۳۰؍ کروڑ مزدور حصہ لیں گے اور اس کے اثرات ۶۰۰؍ اضلاع میں نظر آئیں گے، کئی دیگر تنظیموں کی بھی حمایت
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 6:59 AM IST | New Delhi
مزدور یونینوں کا دعویٰ،کم از کم۳۰؍ کروڑ مزدور حصہ لیں گے اور اس کے اثرات ۶۰۰؍ اضلاع میں نظر آئیں گے، کئی دیگر تنظیموں کی بھی حمایت
مرکزی حکومت ان دنوں اپوزیشن کے حملوں سے چوطرفہ گھری ہوئی ہے۔ ایک جانب جہاں اسے ملک کے سابق فوجی سربراہ کی کتاب میں شامل کچھ حقائق نے پر یشان کررکھا ہے، جسے راہل گاندھی نے لوک سبھا میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی اور جو اَب سوشل میڈیا کے ذریعہ دور دور تک پہنچ گیا ہے، وہیں دوسری جانب اسے امریکہ سے ہونےوالی ڈیل پر بھی سوالات کا سامنا ہے جسے کل تک وہ اپنی حکومت کا ’ماسٹر اسٹروک‘ کہہ کرپیش کررہی تھی۔اسی درمیان ملک کی ۱۰؍ مرکزی ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے ۱۲؍ فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرکے اس کی نیند حرام کردی ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہڑتال میں ملک بھر سے کم ازکم۳۰؍ کروڑ مزدور اورکارکن حصہ لیں گے۔ یونینوں کے گروپ نے ۹؍ جنوری کو ہی مرکزی حکومت کی ’مزدور مخالف، کسان مخالف اور ملک مخالف کارپوریٹ نواز پالیسیوں‘ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کیلئے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ جوں جوں دن قریب آرہے ہیں،اس ہڑتال کو مزید تنظیموں کی حمایت بھی ملتی جارہی ہے۔
آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سیکریٹری امرجیت کور نے ہڑتال سے متعلق تیاریوں کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ اس مرتبہ ۱۲؍ فروری ( جمعرات) کو بلائی گئی ہڑتال میں ملک بھر سے کم از کم۳۰؍ کروڑ مزدور حصہ لیں گے۔ اس سے پہلے ہونےوالے دھرنوں اور مظاہروں میں تقریباً۲۵؍ کروڑ مزدوروں نے حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کا اثر ملک بھر کے۶۰۰؍ اضلاع میں نظر آئے گا جو گزشتہ سال کے تقریباً۵۵۰؍ اضلاع سے زیادہ ہے۔
امرجیت کورنے مزید کہا کہ ٹریڈ یونینوں کے شرکت کے دعوے ضلع اوربلاک سطح پرکی گئی مضبوط تیاریوں پرمبنی ہیں اور کسانوں کے ساتھ ساتھ دیگرفیڈریشن بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہڑتال کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ادیشہ اور آسام مکمل طور پر بند رہیں گے اور دیگر ریاستوں میں بھی تحریک کا خاصا اثر پڑے گا۔
اسی طرح یونائیٹڈ فرنٹ آف ایگریکلچرل لیبر یونین بھی اس مہم کا حصہ ہے، جو ہڑتال میں شامل ہورہی ہے جس میں منریگا کی بحالی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ تقریباً تمام ریاستوں میں مزدوروں، کسانوں اور عام لوگوں کے درمیان تمام شعبوں، سرکاری، عوامی اور پبلک سیکٹر کے اداروں، صنعتی علاقوں، دیہی اور شہری ہندوستان میں مزدوروں، کسانوں اورعام لوگوں کے درمیان بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی ہیں۔ کئی مقامات پرطلبہ اور نوجوانوں کے گروپ ان مہم میں شامل ہو گئے ہیں۔ عام شہری ہڑتال کے مطالبات کیلئے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک دن قبل سینٹرل ٹریڈ یونینز (سی ٹی یوز) کی طرف سے۱۲؍ فروری کو بلائی گئی ملک گیر عام ہڑتال کیلئے میٹنگ میں سمیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے بھی اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کسان مورچہ نے کہا کہ ٹریڈ یونینوں کی اس مشترکہ کارروائی کا مقصد پرائیویٹائزیشن، کنٹریکٹ لیبر، چار لیبر کوڈز، بجلی ترمیمی بل۲۰۲۵ء، منریگا میں تبدیلی اور مجوزہ بیج بل کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان کے مطابق ملک بھر میں احتجاجی مقامات پر کسانوں، زرعی مزدوروں، صنعتی یونینوں، بجلی کے ملازمین اور دیگر مزدور تنظیموں کی بڑے پیمانے پر شرکت متوقع ہے۔ دریں اثنا، ہماچل پردیش میں سیب کے کسانوں نے بھی۱۲؍ فروری کو ملک گیر کسانوں کی ہڑتال میں شامل ہونے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور دہلی تک مارچ کا اعلان بھی کیا ہے۔