نتیجہ آنے تک ایوان کی صدارت نہیں کریں گے، پارلیمانی تاریخ میں ایسی ۳؍ کوششیںناکام ہو چکی ہیں ، البتہ اپوزیشن کو جانبداری ریکارڈ پر لانے کا موقع مل جاتا ہے
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 6:51 AM IST | New Delhi
نتیجہ آنے تک ایوان کی صدارت نہیں کریں گے، پارلیمانی تاریخ میں ایسی ۳؍ کوششیںناکام ہو چکی ہیں ، البتہ اپوزیشن کو جانبداری ریکارڈ پر لانے کا موقع مل جاتا ہے
لوک سبھا اسپیکر کے عہدہ سے اوم برلا کو ہٹانے کیلئے منگل کو ۱۲۰؍ اراکین کے دستخط کے ساتھ اپوزیشن نے لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ کو نوٹس سونپ دیا ہے۔اس نوٹس کے بعد اوم برلا ایوان کی کارروائی سے کنارہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ نوٹس پر فیصلہ ہونے تک ’اخلاقی بنیادوں پر‘‘ وہ ایوان ِزیریں کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے۔ اوم برلا پر کھلی جانبداری، اپوزیشن کو ایوان میں بولنے کا موقع نہ دینے اور کئی مواقع پر ان کے خلاف جھوٹی الزام تراشی کا الزام عائد کیاگیاہے۔ اوم برلا پر اسپیکر کے آئینی منصب کے ’’غلط استعمال‘‘ کا الزام عائد کیاگیاہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورَو گوگوئی، چیف وہِپ کے سُریش اور وہِپ محمد جاوید نے آئین کے آرٹیکل۹۴؍ سی کے تحت یہ نوٹس لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ کودیا ہے جس پر کانگریس کے علاوہ سماجوادی پارٹی ، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی، بائیں محاذ اور آر جے ڈی کے اراکین نے دستخط کئے ہیں۔ ان کے علاوہ شیو سینا (اُدھو) ا ور این سی پی-ایس پی نے بھی اسپیکر اوم برلا کے خلاف نوٹس پر دستخط کئے ہیں۔
ٹی ایم سی دستخط کنندگان میں شامل نہیں
ٹی ایم سی نے اسپیکر کو ہٹانے کیلئے دیئے گئے نوٹس پر دستخط نہیں کئے جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا دستخط بھی نوٹس پر موجود نہیں ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم، دستخط کنندگان، آئین کے آرٹیکل۹۴(سی) کے تحت لوک سبھا کے اسپیکر شری اوم برلا کو عہدہ سے ہٹانے کی قرارداد کا نوٹس دیتے ہیں کیونکہ وہ لوک سبھا کا کام کھلے عام جانب دارانہ انداز میں چلا رہے ہیں۔‘‘نوٹس میں کہا گیا کہ کئی مواقع پر اپوزیشن لیڈروں کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جو ان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ اس میں بطور خاص ۲؍ فروری کو اپوزیشن راہل گاندھی کو صدر کے خطاب پررسم شکریہ کی تحریک کے دوران تقریر مکمل نہ کرنے دینے کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، اپوزیشن لیڈر کو اکثر بولنے نہیں دیا جاتا۔
اپوزیشن اراکین کی معطلی کا بھی حوالہ دیاگیا
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ۳؍فروری کو اپوزیشن کے ۸؍اراکین کو پورے بجٹ اجلاس کیلئے’’من مانے طریقے سے‘‘ صرف اس لئےمعطل کر دیا گیا کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کر رہے تھے۔نوٹس میں نشی کانت دوبے کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ’’۴؍ فروری کو بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو ۲؍ سابق وزرائے اعظم پر ذاتی اور قابلِ اعتراض حملےکی اجازت دی گئی اور اُن کو کسی طرح کی کوئی تنبیہ بھی نہیں کی گئی۔‘‘ اپوزیشن کے مطابق اس رکن پارلیمنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی حالانکہ وہ’’عادی مجرم‘‘ہے۔
اپوزیشن پر جھوٹی الزام تراشی
نوٹس میں اسپیکر کے اس الزام کا بھی حوالہ دیا گیا کہ انہیں ’’ٹھوس معلومات‘‘ملی تھیں کہ کانگریس کے کئی اراکین وزیر اعظم کی نشست کی طرف بڑھ سکتے ہیں اور ’’غیر متوقع حرکت‘‘ کرسکتے ہیں، اس لئے انہوں نے وزیر اعظم کو ایوان میں آنے سے روک دیا تھا۔ یاد رہے کہ مودی نے لوک سبھا میں تحریک شکریہ کا جواب نہیں دیا۔