Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارلیمنٹ کے باہر این ڈی اے اور انڈیا اتحاد آمنے سامنے

Updated: July 23, 2026, 11:16 PM IST | New Delhi

حکومت اوراپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ ایک دوسرے سے الجھ پڑے ،سیکوریٹی کو مداخلت کرنی پڑی ،اپوزیشن وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبہ پر قائم

Ruling and opposition members shouting slogans against each other
حکمراں اور اپوزیشن اراکین کی ایک دوسرےکےخلاف نعرے بازی

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبہ کے ساتھ جنتر منتر پرجاری طلبہ کے احتجاج کے دوران  پارلیمنٹ کے احاطے میںحکمراں اور اپوزیشن اتحادمدمقابل آگئے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔برسر اقتداراین ڈی اے اوراپوزیشن انڈیا  اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مکر دوار پر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور ایکدوسرے پرطلبہ کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگایا۔این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس پر بحث سے بچنے کا الزام لگایا۔ دوسری طرف، انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کرنے نیز احتجاج کرنے والے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا الزام لگایا۔
 اپوزیشن کے مظاہرے میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کی  سپریہ سلے نیز اپوزیشن پارٹیوں کے کئی دیگر اراکین پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ اراکین پارلیمنٹ نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے والا بینر بھی دکھایا۔اس درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کیلئے تیار ہے اور اپوزیشن کو بحث میں حصہ لینا چاہئے۔ بی جے پی رکن  پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے الزام لگایا کہ کانگریس پارلیمنٹ کے اندر بحث سے بچ رہی ہے جبکہ حکومت گنہگاروں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے پُر عزم ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چاہئے اور طلبہ پر طاقت کا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کا نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ حکومت طلبہ کے جائز مطالبات کو سننے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔ پیپر لیک کے واقعات کے لیے حکومت کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK