شریہ مہانتی نامی طالبہ نے دعویٰ کیا کہ’ آنسر کی‘ کے مطابق انہیںتقریباً۶۶۰؍ نمبر ملنے چاہئے تھے لیکن صرف ۲۸۹؍ نمبرملے۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 10:17 AM IST | Kolkata
شریہ مہانتی نامی طالبہ نے دعویٰ کیا کہ’ آنسر کی‘ کے مطابق انہیںتقریباً۶۶۰؍ نمبر ملنے چاہئے تھے لیکن صرف ۲۸۹؍ نمبرملے۔
نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی خبروں کے درمیان اب او ایم آر (او ایم آر) شیٹ کی جانچ پربھی نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال کے ضلع ہگلی کی ایک طالبہ نے کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کے نمبروں میں بہت بڑی گڑبڑی ہوئی ہے۔ہگلی ضلع کے دانکونی کی رہائشی شریہ مہانتی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی او ایم آر شیٹ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جاری کردہ سرکاری جوابی کلید(آنسر کی) سے مطابقت نہیں رکھتی۔شریہ مہانتی کے مطابق، ان کے سوالیہ پرچے کی سیریز کی سرکاری جوابی کلید کی بنیاد پر انہیں ۶۵۹؍ سے۶۶۱؍نمبر ملنے چاہئے تھے لیکن این ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ نتائج میں انہیں صرف۲۸۹؍ نمبر دیے گئے جو تقریباً۳۷۰؍ نمبروں کے بڑے فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس امریتا سنہا نے این ٹی اے کو ہدایت دی کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنا جواب عدالت میں داخل کرے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملک بھر میں میڈیکل داخلوں کے لیے کونسلنگ کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔عدالت نے کہا کہ امتحان منعقد کرنے والی ایجنسی کو اس مبینہ بے ضابطگی کی جلد از جلد وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ اس معاملے کی اگلی سماعت منگل کو مقرر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل سبیاساچی چٹوپادھیائے نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ او ایم آر شیٹ کی جانچ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ طریقے سے کی جاتی ہے، اس لیے سرکاری جوابی کلید اور دیے گئے نمبروں کے درمیان اتنا بڑا فرق انتہائی غیر معمولی ہے۔