Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ امتحان میں توقع کے برخلاف نتائج ،عدالت نے نوٹس جاری کیا

Updated: July 24, 2026, 10:55 AM IST | Z. A. Khan | Beed

جس طالب علم کو ۵۲۲؍ نمبر ملنے چاہئے تھے اسے صرف ۹۵؍ مارکس ملے، عدالت نے جوابی پرچے طلب کئے۔

NEET Paper: The Axis of Conflict. Photo: INN
نیٹ کاپرچہ: تنازعات کا محور۔ تصویر: آئی این این

ملک بھرجاری نیٹ پیپر لیک  تنازع کے بیڑ ضلع کے دو طلبہ کے نتائج نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اپنی توقع سے انتہائی کم نمبر ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے دونوں طلبہ نے بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو نوٹس جاری کیا ہے اوردونوں طلبہ کے جوابی پرچے ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے انکشاف کے بعد این ٹی اے نے دوبارہ امتحان منعقد کیا تھا، جس کا نتیجہ ۱۶؍ جولائی کو جاری کیا گیا۔ تاہم  بیڑ کے طالب علم سوہم گوتے کا کہنا ہے کہ سرکاری شیٹ اور اپنی شیٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسے یقین تھا کہ اسے کم از کم ۵۲۲؍ نمبر حاصل ہوں گے، لیکن اسے محض ۹۵؍ نمبر دیئے گئے۔  اسی علاقے کی ایک طالبہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ طالبہ کو اپنی کارکردگی کے مطابق ۷۰۲؍سے زائد نمبر ملنے کی توقع تھی، مگر نتائج میں اسے صرف ۸۷؍ نمبر دیئے گئے، جس پر اس نے بھی نتیجے کی شفافیت پر سوال اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا حکومت اور پولیس پر الزام

نمبروں میں غیر معمولی فرق سامنے آنے کے بعد دونوں طلبہ نے اورنگ آباد بنچ میں درخواست دائر کی۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ مہندر پنڈت راؤ گنڈلے نے عدالت کو بتایا کہ نتیجے اور جوابی پرچےمیں واضح تضاد موجود ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے این ٹی اے کو نوٹس جاری کیا اور ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر دونوں طلبہ کی اصل او ایم آر جوابی پرچیاں عدالت میں جمع کرائی جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK