مذاکرات کی شروعات مگر امریکہ اور روس کے تیور سخت

Updated: January 12, 2022, 7:43 AM IST | Washington

یوکرین کے معاملے پر جینیوا میں دونوں طاقتور ممالک کے وفود کی ملاقات۔ امریکہ نے روس کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں سخت رد عمل کا انتباہ دہرایا تو ماسکو نے کسی بھی دبائو یا دھمکی کے سبب کوئی رعاعیت برتنے سے انکار کیا۔ فی الحال صورتحال میں پیش رفت کے کوئی آثار نہیں

Russian Vice President Sergei Ryabkov (right) with US Deputy Secretary of State Wendy Sherman (Agency)
روس کے نائب صدر سرگئی ریابکوف ( دائیں) امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شیرمن کے ساتھ ( ایجنسی)

مریکہ  اور روس کے درمیان یوکرین کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ دونوں ممالک نے  مقررہ پروگرام کے تحت پیر کو جینیوا میں مذاکرات کا آغاز کیا۔  ان مذاکرات  میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے وفود نے شرکت کی۔  اس دوران روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں پر فوجوں کی تعیناتی  پر امریکہ کا اعتراض اور نیٹو کی فوجوں سے روسی سرحدوں کی حفاظت کی ضمانت  کا ماسکو کا مطالبہ زیر بحث لائے گئے۔ 
 امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اطلاع دی کہ یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح ۹؍ بجے( ہندوستان میں رات تقریباً ۸؍ بجے) شروع ہوئے  اور سہ پہر دیر گئے ( ہندوستان میں منگل کی رات) تک جاری رہے۔  تاہم دونوں جانب سے ان ٘مذاکرت کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔  البتہ دونوں فریقوں نے  توقع ظاہر کی   کہ دونوں سپر پاورس کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ   امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں نہ صرف یوکرین بلکہ نیٹو اور اپنے یورپی اتحادیوں سے بھی مشاورت کر رہاہے۔جینیوا مذاکرات کے بعد روس برسلز میں نیٹو اورجمعرات کو ویانا میں سلامتی اور تعاون کی یورپی تنظیم کیساتھ مذاکرات کرےگا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے گزشتہ اتوار کو سی این این کے اسٹیٹ آف دی یونین شو میں کہا تھا کہ یوکرین کے سر پر بندوق رکھ کر مذاکرات میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنا ایک مشکل امر ہے۔
 اس دوران وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے صاف الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ  امریکہ اور اس کے حلیف روس کی جانب سے یوکرین میں مداخلت پر فیصلہ کن ردعمل ظاہرکریں گے۔بلنکن نے کہا کہ ہم وسطی اور مشرقی یورپ میں نیٹو کی فوجی مشقوں پر روس کی بات سنیں گے، لیکن    روس کو بھی اپنے ان ایک لاکھ فوجیوں کے تعلق سے ہمارے تحفظات سننے پڑیں گے جو اس نے یوکرین کے مشرقی حصے میں تعینات کر رکھے ہیں۔ ادھر روسی میڈیا کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہےکہ یہ عین ممکن ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات ایک ہی روز میں اچانک ختم ہو جائیں۔انھوں نے کہا کہ میں کسی امکان کو مسترد نہیں کر سکتا، یہی ممکنہ صورتحال ہے اور امریکیوں کو اس بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ ریابکوف کا کہنا تھا کہ پیر کو جینیوا میں   رسمی گفتگو سے پہلے دونوں ممالک کے حکام نے اتوار کی شب ورکنگ ڈنر بھی کیا تھا۔ریابکوف نے کہا کہ یہ قدرتی بات ہے کہ ہم دباؤ اور ان دھمکیوں میں آ کرکوئی رعایت نہیں دیں گے جو کہ ہمیں مذاکرات سے قبل مغرب کی طرف سے مسلسل  دی جا رہی ہے۔
  ادھر انتھونی بلنکن نے ایک دیگر پروگرام  میں یوکرین پر حملے کی صورت میں ماسکو کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی امریکی دھمکی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ٹھوس ترجیح ایک سفارتی حل ہے لیکن یہ روس پر منحصر ہے ۔انھوں نے کہا کہ یورپ میں فوجی مشقوں اور ہتھیاروں کی حد کی تجدید پرگفتگوکی گنجائش موجود ہے جس کی ماضی میں روس خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔بلنکن نے کہا کہ روس دوسرے ممالک کی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا یا یہ حکم نہیں دے سکتا کہ نیٹو ۷؍دہائیوں پرانے مغربی فوجی اتحاد میںرکنیت کیلئے یوکرین کی درخواست کو تسلیم نہ کرے۔ یاد رہے کہ انتھونی بلنکن یہی باتیں پہلے بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK