Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال: سیلاب تو تھم گیا، آنسو نہیں تھم رہے

Updated: August 30, 2026, 9:51 AM IST | Kathmandu

ملبے میں مسخ ہو رہی لاشوں میں اپنوں کی تلاش جاری، کئی لاشیں بہہ کر ہندوستان پہنچیں، مہلوکین کی تعداد۶۸۲؍ سے تجاوز کر گئی، ہزاروں اب بھی لاپتہ، مردہ خانوں میں جگہ نہیں بچی، ۸۰۰؍میٹر کا گلیشیر ٹوٹنے کا ویڈیو سامنے آیا، کئی ممالک نے امداد روانہ کی۔

Relatives of missing people can be seen crying outside a hospital in Kathmandu. Photo: PTI
کھٹمنڈو کے اسپتال کے باہر لاپتہ افراد کے رشتے داروں کو روتے بلکتے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

نیپال میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے بعد اب اپنوں کو کھوچکے خاندانوں کا درد اب سامنے آ رہا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں اپنے بیٹے کی تصویر ہے تو کسی کے پاس بھائی کی تصویر اور کوئی اسپتالوں میں اپنے رشتہ دار کا نام تلاش رہا ہے۔ کھٹمنڈو کے اسپتالوں اور مردہ خانوں کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ اسپتالوں کے باہر لاپتہ لوگوں کے پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔ پولیس اہلکار نام درج کر رہے ہیں۔ اہل خانہ بار بار لسٹ دیکھ رہے ہیں اور ہر چہرہ صرف ایک خبر کا انتظار کر رہا ہے کہ ان کا اپنا زندہ ہے یا نہیں ؟واضح رہے کہ نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس میں سیکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک نیپال میں ۶۸۲؍ اموات کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ اب بھی سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں اور امکان ہے کہ ان کی بھی موت ہو چکی ہے۔ موت کے اعداد و شمار سے بھی بڑا درد اُن خاندانوں کا ہے جنہیں اب تک یہ نہیں معلوم کہ ان کے اپنے کہاں ہیں۔ انہیں میں ایک مندرا کافلے کے رشتے دار بھی لاپتہ ہیں۔ ان کی آخری بار بات سیلاب والے دن ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے فون خاموش ہے اور اہل خانہ انتظار میں ہیں۔ ’اے بی پی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق نیپال کی تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ میں اپنے بھائی کی تلاش میں پہنچے ایک شخص کے ہاتھ میں جو فون ہے اس میں ایک ویڈیو ہے، جس میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ فوج کے جوان نے اس کو بچایا ہے لیکن وہ کہاں ہیں یہ پتہ نہیں ہے۔ 
اے بی پی کی ہی رپورٹ کے مطابق نیپال کے گلچھی علاقہ میں جہاں ملبے سے لاشوں کو تلاش کرنے کا کام جاری ہے لیکن یہاں کام کر رہے لوگ تعفن کی وجہ سے پریشان ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال کے لوگوں کے لیے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ملبے میں دبی لاشوں سے تعفن اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ گلچھی علاقے میں ملازمین پھاؤڑے کی مدد سے ملبے کے اندر لاشیں تلاش کر رہے ہیں جبکہ مقامی لوگ منہ پر کپڑا باندھے ہوئے ہیں کیونکہ لاشوں سے اٹھنے والی بدبو ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپر سے آنے والے ملبے کے ساتھ یہ لاشیں بہہ کر آئی ہیں اور یہاں ملبے میں دبی پڑی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ۲۶؍ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ جو لاپتہ ہیں ۷۲؍ گھنٹوں سے زیادہ گزرجانے کے بعد ان کے ملنے کی امید بھی دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔ ان ہزاروں افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں لیکن یہ انتظار کب ختم ہوگا یہ کہا نہیں جا سکتا۔ اسی درمیان نیپال کے شدید سیلاب کا اثر اب ہندوستان کی ندیوں میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ نارائنی ندی میں سیلاب کے پانی کے ساتھ لاشیں بہہ کر مہاراج گنج تک پہنچ رہی ہیں، یہاں اب تک ۴؍لاشیں ملی ہیں۔ ندی میں بہہ کر آنے والی لاشوں، ملبے، لکڑیوں اور سامان کی یہ تصاویر سیلاب کی تباہی کا دردناک منظر پیش کر رہی ہیں۔ نارائنی ندی میں صرف پانی نہیں بہہ رہا بلکہ سیلاب کے پانی کے ساتھ لکڑیاں، گھریلو سامان، سلنڈر سمیت کئی چیزیں بھی ہندوستان کی طرف آ رہی ہیں۔ اسی دوران راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف جوانوں کو ندی میں کچھ مشتبہ چیزیں نظر آئیں۔ انہوں نے قریب جا کر دیکھا گیا تو وہاں لاشیں پڑی تھیں۔ اس سے فوراً انتظامیہ کو مطلع کیا گیا۔ اس نے ندی سے لاشیں نکال لی ہیں۔ اسی درمیان قدرت کے قہر سے نبرد آزما پڑوسی ملک نیپال پر خطرہ اُس وقت مزید بڑھ گیا، جب تبت-نیپال سرحد پر بنی ایک اور گلیشیر جھیل پھٹ گئی۔ نیپال میں آنے والی اس خوفناک آفت کے بعد ہندوستانی ریاست بہار میں بھی حکومتی و انتظامی مشینری پوری طرح الرٹ موڈ پر آ گئی ہے۔ ممکنہ سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت کے حکم پر گنڈک اور کوسی بیراج سمیت شمالی بہار کے تمام اہم پشتوں کی نگرانی ۲۴؍گھنٹے بڑھا دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۱۱؍ سالوں میں پہلی بار پیدائش میں اضافہ

پیملا تمانگ اپنے لاپتہ چچا کو تلاش کررہی ہیں 
پیملا تمانگ اپنے ہاتھ میں لاپتہ چچا کی تصویر لئے انہیں تلاش کر رہی ہیں۔ ان کے چچا نیپال-چین سرحد کے قریب ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں کام کرتے تھے۔ سیلاب کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اب پیملا خود انہیں تلاش کرنے جانا چاہتی ہیں۔ انہیں بس حکومت سے مدد کی امید ہے۔ پیملا نے کہا کہ ’’اگر مجھے حکومت کی جانب سے کوئی سہولت ملتی ہے تو میں خود انہیں تلاش کرنے جانا چاہتی ہوں۔ ان کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ اہل خانہ ان کے انتظار میں ہیں۔ ‘‘
۹۷؍ سالہ گنامایا بوہارا امید کی علامت بن گئیں 
۹۷؍ سالہ گنامایا بوہارا جو سیلاب کے بعد لاکھوں ٹن کیچڑ کے ملبے میں پھنس گئی تھیں جب انہیں نیپال پولیس اور آرمی کی مدد سے باہر نکالا گیا تو وہ امید کی علامت بن گئیں کیوں کہ ان کے سبھی ساتھی اس سیلاب میں فوت ہو گئے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور پولیس کی مدد سے ملبے سے باہر نکلیں۔ 
لاشوں کو محفوظ رکھنا بڑا چیلنج 
بھوٹے کوشی میں آنے والے سیلاب کے بعد دریا کے بہاؤ کے ساتھ نچلے علاقوں میں ملنے والی لاشوں کو محفوظ رکھنا نیپالی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ کئی لاشیں طویل عرصے تک پانی میں رہنے کے باعث تیزی سے خراب ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں لاشوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کیلئے انتظامات نہیں ہیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے فریزر اور فریزر ٹرکوں کی مدد طلب کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK