Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی سیکھنے کی شرط: بامبےہائی کورٹ نے ٹیکسی ڈرائیوروں کی درخواست خارج کردی

Updated: August 29, 2026, 9:03 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر میں آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان سیکھنے کی لازمی شرط کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے ایک سال کی مہلت دیئے جانے کے بعد مفادِ عامہ کی درخواست خارج کردی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد معاملے میں مزید عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

مہاراشٹر حکومت کی جانب سے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مہلت دیئے جانے کے بعد بامبےہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں اب مزید عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے اور اس سلسلے میں دائر مفادِ عامہ کی درخواست (PIL) کو خارج کر دیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے محکمہ نقل وحمل نے بامبے ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ ریاست بھر کے تمام آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی زبان سیکھنے، پڑھنے اور بولنے کیلئے ایک سال کی رعایت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعدایکٹنگ چیف جسٹس رویندر وی گھوگے اور جسٹس گوتم اے آنکھڑ کی بنچ نے ٹیکسی ڈرائیوروں کی درخواست کو خارج کر دیا۔ درخواست میں حکومت کے اس حکم نامے (نوٹیفکیشن) کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت ریاست کے رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کا بنیادی علم ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ 
یہ درخواست اوبر (Uber) جیسے ایپ پر مبنی پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرنے والے چار ڈرائیوروں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عید میلادالنبیؐ پر۲۲؍مستحق بچوں کی فیس میں مدد کیلئے ایک لاکھ ۴۳؍ ہزار ۵۹۷؍ روپے تقسیم

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ مراٹھی زبان کو لازمی قرار دینا آئینِ ہند کی دفعات، ۱۴؍(مساوات کا حق)، ۱۹؍(روزگار کی آزادی) اور ۲۱؍ (زندگی کا حق) کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ، ۱۹۸۸؍کے موٹر وہیکل ایکٹ میں بھی ڈرائیونگ لائسنس کیلئے زبان کی کوئی شرط شامل نہیں ہے۔ اس درخواست کے ذر یعے مطالبہ کیا گیاتھا کہ مذکورہ بالا حکومتی فیصلے پر فوری طور پر روک لگائی جائے تاکہ مہاراشٹر کے تقریباً ۹ء۶۵؍ لاکھ ڈرائیوروں کو اس پریشانی سے بچایا جا سکے۔ سماعت کے دوران، عدالت نے ۲۸؍ اگست کی خبروں کا حوالہ دیا جس میں رکشہ ڈرائیوروں کی وزیراعلیٰ سے ملاقات اور مسئلہ کے حل سے متعلق اطلاعات آئی تھیں۔ عدالت کی ہدایت پر سرکاری وکیل نے ٹرانسپورٹ کمشنر سے تصدیق کر کے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے ڈرائیوروں کوپوری طرح سے مراٹھی زبان سیکھنےکیلئے ایک سال کی مہلت دینے کا مثبت فیصلہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھئے: شکرکی قلت اور قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ہدایات جاری

عدالت نے اپنے حکم نامے میں درج کیا چونکہ حکومت نے اس معاملے میں ایک سال کی مہلت دے دی ہے، جس کی بناپر ڈرائیوروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس ایک سال کے دوران مراٹھی زبان کو پوری طرح سیکھ لیں، اس لئے عدالت اس معاملے کو خارج کر رہی ہے۔ مراٹھی ایکیکرن سمیتی نے ڈرائیوروں کی درخواست میں مداخلت کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کی حمایت کی۔ اس معاملے میں ڈرائیوروں کی طرف سے ایڈوکیٹ وویک شکلا، حکومت مہاراشٹر کی طرف سے سرکاری وکیل جیوتی چوہان اور سمیتی کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ نوروز سروائی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK