Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران خلیج میں ۴۰۰؍ جہاز پھنسے ہیں: یو این

Updated: August 29, 2026, 9:03 PM IST | New York

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں تجارتی جہاز اور ہزاروں بحری عملہ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہنے سے عالمی تیل کی تجارت اور ضروری اشیاء کی ترسیل بھی سنگین خطرات سے دوچار ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی سمندری ادارے (IMO) نے جمعہ کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد بھی ۴۰۰؍سے زائد تجارتی جہاز اور ان پر سوار ۶؍ ہزار بحری عملے کے افرادخلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عالمی سمندری ادارے کے سربراہ آرسینیو ڈومنگوز نے بتایا کہ ’’اگرچہ کچھ جہاز اور ان کا عملہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہا ہے لیکن تنازع شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ۴۰۰؍ جہاز وہاں سےباہر نہیں نکل پائے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو اب بھی غیر حل شدہ اور تشویشناک قرار د یااور کہا کہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ( ۲۰؍ فیصد) گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پزشکیان کا ٹرمپ سے ہلچل پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ، کہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوسکتے ہیں

اقوامِ متحدہ کے اس ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ۲۸؍فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر کم و بیش ۷۰؍حملے ہوئے، جن میں ۱۹؍بحری عملے کے افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ڈومنگوز نے اس بات پر زور دیا کہ ایندھن اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر ہونے سے دنیا بھر کے ممالک اور عالمی معیشت پر ’سنگین‘ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں بے قصور ملازمین مسلسل خطرے اور غیر یقینی کے حالات میں وقت گزار رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، رکن ممالک اور سمندری تجارتی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اس سمندری راستے پر جہاز وں کی رسائی کی آزادی کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا تقریر کی اجازت نہ ملنے پر نائن الیون یاد گاری تقریب میں شرکت سے انکار

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے جون میں ایک میمورنڈم پر دستخط کئے تھے اور حتمی معاہدے کیلئے بات چیت شروع کی تھی۔ تاہم، سیکوریٹی کی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری نقل و حمل سے متعلق اختلافات کے باعث یہ مذاکرات فی الحال رکے ہوئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK