Updated: August 30, 2026, 10:58 AM IST
| New York
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے نیویارک میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانی وحدت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ہندو یہ سوچتا ہے کہ ہندوستان سے مسلمانوں کو نکال دینا چاہئے، وہ ہندو نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہندو روایت تمام انسانوں کی عزت اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرتی ہے۔
موہن بھاگوت نیو یارک میں خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دینا چاہئے، وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے یہ بات نیویارک میں منعقدہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ’اے ہیڈ فورم‘ (AHEAD Forum) کے زیر اہتمام’’ Faith Leaders Conference ‘‘میں عیسائیت، یہودیت، ہندو مت اور اسلام سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ بھاگوت نے اپنے خطاب میں مذہبی ہم آہنگی، انسانی وحدت اور ہندوستان کی تکثیری شناخت پر گفتگو کی۔
موہن بھاگوت نے ۲۰۱۸ءمیں اپنی لیکچر سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلم برادری کے کچھ لوگوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ وہ ’ہندو راشٹر‘ کی بات کرتے ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیا جائے گا؟ ان کے مطابق انہوں نے جواب دیا تھا کہ ایسا نہیں ہے، یہ ہندوتوا نہیں ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے تو وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق خود کو ہندو کہنے کیلئے یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ تمام راستے بالآخر ایک ہی خدا کی طرف جاتے ہیں اور ہر انسان عزت و وقار کا حقدار ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب تو تھم گیا، آنسو نہیں تھم رہے
تمام مذاہب کا مقصد الوہیت کی تلاش
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہندو روایت میں یہ تصور موجود ہے کہ تمام مذاہب بالآخر الوہیت کی تلاش کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے تاریخی طور پر ان مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دی ہے جنہیں اپنے علاقوں میں تحفظ حاصل نہیں تھا۔ تاہم، بھاگوت نے کہا کہ ماضی کا ایک ’بوجھ‘ مختلف برادریوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اور تنازعات کی ایک وجہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں تک یہ تصور پہنچائے کہ تنوع، بنیادی وحدت کی نفی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق مختلف نوعیتیں اور شناختیں انسانیت کی وحدت کو خوبصورت بناتی ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ جس طرح ایک شخص اپنی مخصوص شناخت اور خصوصیات کا تحفظ کرتا ہے، اسی طرح اسے دوسروں کی خصوصیات کا بھی احترام اور تحفظ کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق تنوع فطرت کا اصول ہے، جبکہ وحدت فطرت کے پیچھے موجود حقیقت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۱۱؍ سالوں میں پہلی بار پیدائش میں اضافہ
’سیاست مفاد پرستی کا کھیل بن گئی ہے‘
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ مذہبی اور سماجی تنظیمیں پالیسی اور سیاست پر اثرانداز ہونا چاہتی ہیں، لیکن اس عمل کا آغاز سیاست سے نہیں بلکہ معاشرے سے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کو روکنے اور پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کیلئے سیاست پر اثر ڈالنا ضروری ہے، لیکن موجودہ دور میں سیاست ’مفاد پرستی کا کھیل‘ بن چکی ہے۔ بھاگوت نے ’میں اور میرا‘ کے بجائے ’ہم اور ہمارا‘ کی سوچ کو حل قرار دیا۔ ان کے مطابق آر ایس ایس کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش پہلے سماجی سطح پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے مسلم اور عیسائی برادریوں کے ساتھ ۲۰۱۸ءکے بعد شروع ہونے والے مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکالمہ پہلا قدم ہے اور خدمت دوسرا قدم۔
یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی‘ کی ترقی کے درمیان انسانیت اپنی ہی ایجادات کا شکار بن سکتی ہے: پوپ لیو
طیارہ حادثے کا حوالہ
بھاگوت نے ہریانہ میں ۱۹۹۶ءمیں ہونے والے دو طیاروں کے تصادم کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس حادثے کے بعدآ ر ایس ایس کے کارکن متاثرین کی مدد کیلئے سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل تھے اور انہوں نے زخمیوں کی مدد کے ساتھ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کے انتظام میں بھی تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آر ایس ایس کارکنوں نے یہ نہیں سوچا کہ متاثرین مسلمان ہیں یا نہیں۔ بھاگوت کے مطابق اگر وہ سیاسی مفادات کے تحت کام کر رہے ہوتے تو شاید ایسا نہ کر پاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس اپنے اس طرح کے کاموں کی تشہیر نہیں کرتا اور معاشرے میں اس تنظیم کے بارے میں بعض تصورات ’غلط بیانیوں ‘ کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر لوگ آر ایس ایس کو اندر سے دیکھیں تو ایسے بہت سے تصورات ایک دن میں ختم ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ
سیاست سے پہلے سماجی طاقت ضروری ہے
موہن بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس پہلے سماجی طاقت پیدا کرنا چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی رائے تشکیل پائے گی اور پھر اسی عوامی رائے کے ذریعے سیاست پر اثر ڈالا جا سکے گا۔ ان کے مطابق جمہوریت میں سیاست کا انحصار عوامی رائے پر ہوتا ہے اور اگر کسی معاملے پر مضبوط عوامی رائے موجود ہو تو کوئی سیاست دان اس کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو قریب لانے اور ان کے درمیان بنیادی انسانی وحدت کا شعور پیدا کرنے کے عمل کو ایک ’ابدی کام‘ قرار دیا، جس کیلئے مذہبی رہنماؤں کو مسلسل کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈز میں ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل والی ایکسٹیسی گولیوں پر ’ریڈ الرٹ‘ جاری: ’ہرگز استعمال نہ کریں‘
مذہبی رہنماؤں کا کردار
بھاگوت کے مطابق مذہبی رہنماؤں کو انسانیت تک یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بنیادی انسانی وحدت موجود ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ کام آسان نہیں بلکہ وقت طلب اور محنت طلب ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات مسلمان اور عیسائی ان سے کہتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ بیٹھ کر بات چیت کر چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مکالمہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقصد درست اور نیت سچی ہو تو کوشش جاری رہنی چاہئے اور اپنی خامیوں کو بھی درست کرنا چاہئے، تاکہ انسانیت برائیوں کے گڑھے میں گرنے سے بچ سکے۔