Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال کی بالن شاہ حکومت کے وزیر داخلہ سودھن گرونگ ۲۶؍ دن ہی میں مستعفی، کرپشن کے سنگین الزامات

Updated: April 23, 2026, 11:38 AM IST | Agency | Kathmandu

اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہونا چاہئے، جذبات کی بنیاد پر نہیں،میں پارٹی کی جانب سے کئے جانے والےہر فیصلے کی حمایت کروں گا اور جانچ میں مکمل تعاون کروں گا۔

Nepal`s Home Minister Sudhan Gurung Resigns.Photo:INN
نیپال کے مستعفی وزیرداخلہ سودھن گرونگ- تصویر:آئی این این
نیپال کے وزیر داخلہ سودھن گرونگ نے عہدہ سنبھالنے کے صرف ۲۶؍ دن کے اندر ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔ بدھ کو انہوں نے اپنی جائیدادوں سے متعلق اٹھنے والے خدشات کی غیر جانبدارانہ جانچ کا حوالہ دیتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ سودھن گرونگ نے اس بارے میں فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے اطلاع دی۔
نیپال کے مستعفی وزیرداخلہ سودھن گرونگ پر متنازع کاروباری شخصیت دیپک بھٹاکے ساتھ تجارتی شراکت داری اور مائیکرو انشورنس کمپنیوں میں مشتبہ سرمایہ کاری کے الزامات لگے تھے۔ دیپک بھٹا پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اور ان کے خلاف جانچ جاری ہے۔
سودھن گرونگ نے وزیر داخلہ بننے کے بعد کرپشن کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا تھا لیکن اب انہیں ذاتی سرمایہ کاری کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بڑے پیمانے پر مخالفت کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ فیس بک پوسٹ میں انہوں نے لکھا،’’مجھ سے متعلق الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ کو یقینی بنانے، عہدے پر رہتے ہوئے مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے اور تفتیش کے عمل پر کسی بھی قسم کے اثر سے بچنے کے لئے میں نے وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
 
 
سودھن گرونگ نے کہا:’’میرے لئے اخلاقیات عہدے سے بڑھ کر ہیں اور عوام کا اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے۔ نیپال میں جاری جین زی تحریک جو بہتر حکمرانی، شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے، اس نے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ عوامی زندگی صاف ہونی چاہئے اور قیادت کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ اگر کوئی میرے ۴۶؍ بھائی بہنوں کے خون اور قربانی سے بنی حکومت پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کا جواب اخلاقیات ہے۔‘‘
 
 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے اوپر لگے الزامات کی جانچ میں مکمل تعاون کریں گے۔ سودھن گرونگ نے اپیل کی کہ بہت سی افواہیں پھیل رہی ہیں، اس لئے قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا،’’الزامات اور حقیقت ایک نہیں ہوتے۔ فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہونا چاہئے، جذبات کی بنیاد پر نہیں۔ میں پارٹی کی جانب سے کئے جانے والےہر فیصلے کی حمایت کروں گا اور جانچ میں مکمل تعاون کروں گا۔‘‘واضح رہےکہ حال ہی میں قائم ہونے والی بالن شاہ کی حکومت سے نیپال کے عوام خصوصاً جی زی کو بہت ساری امیدیں  وابستہ ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK