ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی عمر کے اُس پڑاؤ میں ہیں جس میں قویٰ مضمحل ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں اہل خانہ و خاندان کے تعاون کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی عمر کے اُس پڑاؤ میں ہیں جس میں قویٰ مضمحل ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں اہل خانہ و خاندان کے تعاون کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ معاونین کی اس دفاعی جمعیت کو انگریزی میں سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ ممتا بنرجی کے اہل خانہ اور اعزاء اپنی جگہ ہیں مگر اُن کا اصل خاندان تو اُن کی پارٹی ہے اور پارٹی سے وابستہ لوگ اُن کے اہل خانہ ہیں۔ اب اگر یہی اہل خانہ منہ موڑ لیں گے اور جس پارٹی سے بہت کچھ حاصل کیا اُسی کو بحران میں دھکیلنے کی کوشش کرینگے تو اسے بدترین موقع پرستی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ ٹی ایم سی کے اتنے اراکین اچانک موقع پرست کیوں ہو گئے؟ عموماً موقع پرستی کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں: اپنی پارٹی میں ناقدری، جس پارٹی سے وابستہ ہونا ہے اُس میں عہدہ یا کسی اور چیز کا لالچ یا کوئی ایسا معاملہ جس کی وجہ سے ہاتھ دبا ہو اور مزاحمت ممکن نہ ہو وغیرہ۔ اگر ایسا ہے تب بھی ہمیں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ کیا ۸۰؍ میں سے ۶۰؍ ایم ایل اے اور ۲۸؍ میں سے ۲۰؍ ایم پی کا ہاتھ دبا ہوا ہوسکتا ہے؟
کیا ٹی ایم سی میں ان سب کی ناقدری ہورہی تھی؟ ایم ایل اے اور ایم پی ہونے کے باوجود کس بنیاد پر یہ لوگ ناقدری کا شکوہ کس بنیاد پر کر سکتے ہیں؟ ان میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن میں الیکشن جیتنے کی اہلیت دیکھ کر ممتا نے انہیں پارٹی کے پرانے خدمتگاروں پر فوقیت دی ہوگی۔ یہ تو انعام ہوا، ناقدری کیسے ہوئی؟ہمارے خیال میں یہ معاملہ ناقدری کا نہیں بلکہ ہاتھ دبا ہونے کا ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تب بھی اتنے سارے لوگوں نے ’’گوشہ ٔ عافیت‘‘ کیوں تلاش کیا؟ کیا انہیں مرکزی ایجنسیوں کی راڈار پر آنے کا ڈر ہے؟ یہ بھی وہ دو چار لوگوں کو ہوسکتا ہے۔ یہاں تو ایسا لگتا ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر سب ہی ٹی ایم سی کو کسی بہت بڑے جرم کی سزا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔
وہ چاہے ۲۰۲۴ء میں منتخب ہونے والے اراکین پارلیمان ہوں یا ۲۰۲۶ء میں منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی، انہیں ٹکٹ دے کر ممتا نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ یہاں اچھے سلوک کو احسان پڑھا جاسکتا ہے۔ ممتا کو ضعیفی کے دور میں دھوکہ دینے کے درپے زیر بحث ۶۰؍ ایم ایل اے اور ۲۰؍ اراکین پارلیمان کا یہ گروہ احسان فراموش تو ہے ہی، انسانی قدروںکا بھی دشمن ہے ورنہ آدمی یہ سو چ کر کوئی قدم اُٹھانے سے گریز کرتا کہ اُس کے عمل سے اِس عمر میں ممتا کو شدید جذباتی ٹھیس پہنچے گی۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ موجودہ سیاست میں اتنا کون سوچتا ہے کہ اُس کا کوئی فیصلہ کسی کی جذباتی اذیت کا باعث ہوسکتا ہے۔ درست مگر یہی تو پیمانہ ہے جس سے ہم سماج کی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ سماج بہت سے جذبوں سے عاری ہوچکا ہے۔ مروت کم ہوگئی ہے۔ احسان ماننے کا جذبہ مفقود ہورہا ہے۔موقع پرستی بڑھ رہی ہے۔ مفادات کی غلامی عام ہے۔ سیاستدانوں کا جھوٹ سماج کو اس لئے نہیں کھلتا کہ سماج کے لوگ خود بھی جھوٹ کا سہارا لے لیتے ہیں۔
کبھی سوچئے کہ ممتا کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ کس پر اُن کے کتنے احسانات ہیں وہی جانتی ہیں ، کوئی دوسرا شخص حتیٰ کہ ابھیشیک بنرجی بھی نہیں جانتے ہوں گے۔وہ اپنے احسانات کا موازنہ جو احسانمند ہے اُس کے حالیہ عمل سے کررہی ہوں گی کہ یہ فطری عمل ہے۔ پارٹیاں پہلے بھی ٹوٹی ہیں مگر جو ٹی ایم سی کے ساتھ ہورہا ہے وہ مختلف ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ممتا معمر ہوچکی ہیں اور اُن کی صحت بھی ٹھیک نہیں لگتی ۔