راج پاٹ سے محرومی کے بعد ترنمول کا سیاسی بحران کا شکار ہونا تو غیر متوقع نہیں تھا لیکن محض ایک انتخابی شکست کی وجہ سے ممتا کا سیاسی وجود ہی خطرہ میں پڑ جائیگا اس کا کسی کو وہم و گمان تک نہیں تھا۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 1:06 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai
راج پاٹ سے محرومی کے بعد ترنمول کا سیاسی بحران کا شکار ہونا تو غیر متوقع نہیں تھا لیکن محض ایک انتخابی شکست کی وجہ سے ممتا کا سیاسی وجود ہی خطرہ میں پڑ جائیگا اس کا کسی کو وہم و گمان تک نہیں تھا۔
ممتا بنرجی کیلئے یہ قیامت کی گھڑی ہے۔ بنگال کا اقتدار ہاتھوں سے کیا گیا ان کی دنیا ہی لٹ گئی۔ انتخابی شکست کے بعد ترنمول کانگریس کی شکست و ریخت ناقابل یقین ہے۔پچھلے ہفتے ترنمول کانگریس کے نو منتخب ایم ایل ایز نے ممتا سے ناطہ توڑ کر اپنی علیحدہ ریاست بنانے کا اعلان کردیاتھا۔اب اراکین پارلیمنٹ نے بھی ایم ایل ایز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لئے آزادی کا راستہ منتخب کر لیا ہے۔ چند ہفتوں میں ممتا نے صرف پاور نہیں کھویا بلکہ پارٹی بھی کھودی۔
ممتا کی پارٹی نہیں ٹوٹی ہے بلکہ ممتا ٹوٹ گئی ہیں۔جیسے کسی ملک کے سربراہ کا تختہ پلٹا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح منحرفین نے ترنمول کانگریس کی سپریمو کا تختہ پلٹ دیا ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ حقیقی ترنمول کانگریس کے مالک بن گئے ہیں۔ پارٹی اب ممتا بنرجی کی ملکیت نہیں رہی۔ راج پاٹ سے محرومی کے بعد ترنمول کانگریس کا سیاسی بحران کا شکار ہونا تو غیر متوقع نہیں تھا لیکن محض ایک انتخابی شکست کی وجہ سے ممتا کا سیاسی وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا اس کا کسی کو وہم و گمان تک نہیں تھا۔ ممتا اپنے طویل سیاسی کرئیر میں متعدد نشیب و فراز سے گزری ہیں لیکن وہ اتنی بے سہارا، بے بس اور تنہا پہلے کبھی نظر نہیں آئی تھیں جتنی اس وقت دکھائی دے رہی ہیں۔۴؍مئی کو اسمبلی الیکشن کے تنائج کے اعلان کے بعد سے ترنمول کانگریس کی درگت، پارٹی لیڈروں کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاریاں اور عوام کے ہاتھوں پٹائیاں اور پارٹی کی صفوں میں تیزی سے پھیلتا انتشار جیسے مناظر دیکھ کر ذہن میں بار بار فلم’’ وقت‘‘کا ٹائٹل گیت گونج رہا ہے۔ واقعی وقت کی ٹھوکر میں ہیں آتی جاتی رونقیں۔
ذرا تصور کیجئے جو پارٹی لیڈر ان کل تک اپنی پارٹی سپریمو کے ہر حکم کی تعمیل کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے آج وہ ممتا کی کال تک رسیو نہیں کررہے ہیں۔ ممتا کی بے بسی کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنے زخمی بھتیجے اور ایم پی ابھیشیک بنرجی کو لے کر کلکتہ کے دو بڑے پرائیویٹ اسپتالوں میں بھٹکتی رہیں لیکن ان کووہاں داخل کرانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ کل تک پورے صوبے میں جن کا سکہ چلتا تھا اب وہاں ان کی ایک نہیں چلتی ہے۔
سیاسی حریف بی جے پی کے ہاتھوں الیکشن میں ہوئی ترنمول کانگریس کی کراری شکست کے زخم تو وقت کے ساتھ مندمل ہوجاتے۔ ممتااس وقت جس اذیت ناکی سے گزررہی ہیں اس کی وجہ تو اپنوں کے ہاتھوں ملی بے وفائی کے زخم ہیں۔ ممتا کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی اور تقریباً ۶۰؍ نو منتخب اراکین اسمبلی نے علم بغاوت بلند کردیا۔ستم ظریفی دیکھئے کہ ا س بغاوت کا سرغنہ بھی ایک بنرجی ہی ہے ریتابرت بنرجی۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ یہ شاطر دماغ سیاستداں کبھی سی پی آئی (ایم) کا ایم پی تھا جسے ممتا نے خود اپنے ہاتھوں سے پہلے راجیہ سبھاکا رکن بنایا اور بعد میں اسمبلی الیکشن میں امیدوار بناکر اتارا۔ ثابت یہ ہوا کہ ریتابرت جیسے موقع پرست اقتدار کی گوند کی وجہ سے ممتا سے چپکے ہوئے تھے۔ اقتدار چھنا اور انہوں نے رسی تڑائی۔ ثابت یہ بھی ہوا کہ ممتا انسانوں کو پہچاننے میں ہمیشہ مات کھا جاتی ہیں۔
ممتاکیلئے تسلی کی بات صرف یہ ہے کہ تمام منحرفین نے پارٹی کی ہار کیلئے انہیں نہیں بلکہ ابھیشیک بنرجی کے سیاسی فیصلوں اور انتخابی حکمت عملی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ابھیشیک کی پارٹی تنظیم پر بڑھتی آہنی گرفت اور آمرانہ طرز عمل پر ایک عرصے سے بیزاری اور بدگمانی پنپ رہی تھی۔ ترنمول کے صف اول کے لیڈران جن میں پارتھو چٹرجی، فرہاد حکیم اور کلیان بنرجی شامل تھے، ممتا بنرجی کو اشاروں اشاروں میں یہ سمجھا چکے تھے کہ انہوں نے اپنے بھتیجے کو بے لگام اختیارات دے کر اچھا نہیں کیا ہے۔لیکن ممتا نے بھی انہیں اشاروں اشاروں میں سمجھادیا کہ ابھیشیک کی اطاعت کی عادت ڈال لیں کیونکہ وہ انہیں اپنا ولی عہدمنتخب کرچکی ہیں۔ ترنمول کانگریس لیڈروں نے آئی پیک نام کے ادارہ کے ہاتھوں میں پارٹی کے سارے معاملات اور انتخابی امور سونپ دیئے جانے کے ابھیشیک کے فیصلے کی بھی دبی زبان سے مخالفت کی تھی۔لیکن ممتا پچھلے کافی عرصے سے پارٹی کے پرانے وفاداروں کے مشوروں کو حقارت سے مسترد کردیتی تھیں۔ ممتا کو اب دیرینہ سیاسی رفیقوں سے زیادہ فلمی ستاروں، کھلاڑیوں، گلوکاروں اور شاعروں کے جھرمٹ میں رہنا اور ان کی خوشامدانہ لچھے دار باتیں سننا زیادہ بھانے لگا تھا۔ تاپش رائے، شتابدی رائے، مون مون سین، نصرت جہاں، دیو، شتروگھن سنہا، کیرتی آزاد، یوسف پٹھان، منی چکرورتی اور رچنا بنرجی کو سیاست کی ابجد سے واقفیت نہیں تھی۔ انہیں پارلیمنٹ میں ترنمول کانگریس کی نمائندگی کے لئے کیوں چنا گیا؟ مجھے یقین ہے کہ ممتا کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والوں میں زیادہ تعداد انہی موقع پرست ’’درخشاں ستاروں ‘‘ کی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:گھریلو تشدد کیس میں سپنا چودھری کو عبوری راحت مل گئی، شوہر پر پابندیاں عائد
آج جب نہ صرف ممتاکی پارٹی بلکہ خود ممتا کو شکست دے کر شوبھیندو ادھیکاری بنگال کے تخت پر براجمان ہوچکے ہیں کیا دیدی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گی کہ شوبھیندو بھی ابھیشیک کی وجہ سے پارٹی سے ناطہ توڑ گئے تھے۔شوبھیندو ترنمول کانگریس کے جانباز سپاہی تھے اور ممتا کے لئے جان نچھاور کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔شوبھیندو زمین سے جڑے مقبول لیڈر ہیں اور ممتا بنرجی کی نندی گرام تحریک کی کامیابی میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ ممتا نے شوبھیندوکی صلاحیتوں کو پہچاننے میں بھاری غلطی کردی۔
یہ بھی پڑھئے:ظہران ممدانی کی ٹرمپ کی فٹبال ورلڈ کپ پالیسی پر سخت تنقید
خیر ترنمول کانگریس کی شکست کی ساری ذمہ داری ابھیشیک پر ڈالنا درست نہیں ہے۔آر جی کار میڈیکل اسپتال میں ڈاکٹر کے ریپ اور مرڈر کے بعد عوام کا ایک بڑا طبقہ ترنمول کانگریس سے برگشتہ ہوگیا اور ہر قیمت پر اس سے نجات پانے کیلئے بے چین ہوگیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ سول سوسائٹی جس نے بایاں محاذ کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے میں ممتا کی مکمل سرپرستی اور حمایت کی تھی وہ بھی اس ہولناک جرم سے نپٹنے میں ممتا حکومت کی غفلت اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے ان سے روٹھ گئی۔ ووٹروں کے ذریعہ ترنمول کانگریس کو مسترد کرنے کی ایک اور اہم وجہ تھی پارٹی میں کینسرکی طرح پھیلا کرپشن اورپارٹی لیڈروں کی داداگیری۔ میں پیر کی شام جب یہ کالم مکمل کررہا ہوں دلی سے اطلاع آرہی ہے کہ ترنمول کانگریس کے باغی اراکین پارلیمان نے مودی کے وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر بیٹھ کر ممتا کے خلاف بغاوت کے بلیوپرنٹ پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ ترنمول کے ان باغیوں کو آشیرواد دینے کیلئے وہاں شوبھیندو ادھیکاری بھی موجود تھے۔ مطلب یہ نکلا کہ ترنمول کانگریس کو صرف اقتدار سے بے دخل کرکے ہی نریندر مودی اور امیت شاہ کی تسلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے ممتا کو پارٹی سے بے دخل کرنے کا پلان بھی بنالیا ہے۔اوربیچاری دیدی ’’کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے‘‘کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔