دنیا کے معروف آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے ۲۰۳۰ء کے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرکے کھیلوں کی براہِ راست نشریات کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ معاہدہ پوری دنیا کے لیے نہیں بلکہ اسپین اور اندورا کے لیے ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
دنیا کے معروف آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے ۲۰۳۰ء کے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرکے کھیلوں کی براہِ راست نشریات کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ معاہدہ پوری دنیا کے لیے نہیں بلکہ اسپین اور اندورا کے لیے ہے۔
دنیا کے معروف آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے ۲۰۳۰ء کے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کرکے کھیلوں کی براہِ راست نشریات کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ پوری دنیا کے لیے نہیں بلکہ اسپین اور اندورا کے لیے ہے، جہاں نیٹ فلکس ٹورنامنٹ کے تمام ۱۰۴؍ میچ براہِ راست نشر کرے گا۔ اس معاہدے کے ساتھ نیٹ فلکس پہلی مرتبہ مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کی مکمل براہِ راست نشریات اپنے پلیٹ فارم پر پیش کرے گا۔ دوسری جانب، ہندوستانمیں ۲۰۳۰ء کے فیفا ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق زی انٹرٹینمنٹ نے حاصل کیے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے نشریاتی انتظامات کی باضابطہ تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
نیٹ فلکس کے اعلان کے مطابق۲۰۳۰ء کے فیفا ورلڈ کپ کے تمام ۱۰۴؍ میچ اسپین اور اندورا میں اس کے پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر کیے جائیں گے۔ نشریات میں میچ سے پہلے کا تجزیہ، وقفے کے دوران پروگرام، میچ کے بعد تبصرے اور مقابلے کے دنوں میں روزانہ کی اہم جھلکیاں بھی شامل ہوں گی۔ ٹورنامنٹ سے قبل خصوصی پروگراموں کے ذریعے شائقین میں جوش و خروش پیدا کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:موہن لال نے اجے دیوگن کی فلم ’’دِرِیشیم ۳‘‘ کی تعریف کی
اسپین میں شائقین کے لیے مفت ٹیلی ویژن نشریات کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت ہر میچ کے دن کم از کم ایک میچ مفت دکھایا جائے گا، جبکہ اسپین کی قومی ٹیم کے تمام میچ، دونوں سیمی فائنل اور فائنل بھی ایک قومی نشریاتی ادارے کے ذریعے مفت دستیاب ہوں گے۔ اس طرح نیٹ فلکس کی خصوصی نشریات کے باوجود اہم مقابلے مفت دیکھنے کا راستہ برقرار رہے گا۔
ہندوستانی فٹ بال شائقین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ فیفا اور زی انٹرٹینمنٹ کے درمیان ۲۰۳۰ء ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ پہلے ہی طے پاچکا ہے۔ فیفا نے یکم جون ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا تھا کہ زی انٹرٹینمنٹ ہندوستان میں ۲۰۲۶ء اور ۲۰۳۰ء کے مردوں کے ورلڈ کپ سمیت متعدد فیفا مقابلوں کی نشریات اور تقسیم کے حقوق رکھتا ہے۔ اس معاہدے میں ۲۰۲۷ء کے خواتین کے ورلڈ کپ اور دیگر عالمی مقابلے بھی شامل ہیں۔
اس معاہدے کے تحت ہندوستانی ناظرین کو زی کے ٹیلی ویژن اور ڈجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے مقابلے دیکھنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ لہٰذا اسپین اور اندورا کے لیے نیٹ فلکس کا معاہدہ ہندوستان کے نشریاتی انتظامات کو تبدیل نہیں کرتا۔ ہندوستان میں میچ دیکھنے کے لیے نیٹ فلکس کی رکنیت کو لازمی قرار دینے کا کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں ورلڈ کپ کی نشریات کے لیے الگ حقوق کے معاہدے درکار ہوں گے۔ ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک دستیاب رپورٹس کے مطابق، متحدہ عرب امارات اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے لیے ۲۰۳۰ءورلڈ کپ کے نشریاتی ادارے کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہاں تمام میچ نیٹ فلکس پر دکھائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا دورے کے لیے آرچر اور بیتھل کی انگلینڈ کی ون ڈے ٹیم میں واپسی
دوسرے ممالک میں بھی نشریاتی حقوق الگ الگ معاہدوں کے تحت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، برطانیہ میں بی بی سی اور آئی ٹی وی کو ۲۰۲۶ء اور ۲۰۳۰ء کے ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل ہیں، جبکہ فرانس میں ایم سکس گروپ ہر ٹورنامنٹ کے ۵۴؍ میچ مفت ٹیلی ویژن پر نشر کرے گا۔۲۰۳۰ء کا فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر منعقد ہوگا۔ اس کی میزبانی اسپین، پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ صد سالہ جشن کے تحت افتتاحی مرحلے کے خصوصی میچ ارجنٹائنا ، پیراگوئے اور یوروگوئے میں بھی کھیلے جائیں گے۔ اس عالمی مقابلے میں ۴۸؍ ٹیمیں حصہ لیں گی اور مجموعی طور پر ۱۰۴؍ میچ ہوں گے۔
نیٹ فلکس کے لیے یہ معاہدہ کھیلوں کی براہِ راست نشریات میں توسیع کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کمپنی پہلے ہی مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور خصوصی پروگراموں میں سرمایہ کاری کررہی ہے، جبکہ اب مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کی مکمل نشریات کے ذریعے اس نے فٹ بال کے عالمی شائقین تک رسائی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔