Updated: October 13, 2026, 9:03 PM IST
| Washington
امریکی میڈیا کے مطابق مسک نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن کی مدد کے لیے۲۷۶؍ ملین ڈالر خرچ کیے،۲۰۲۴ء میں، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ نے ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی حمایت کے لیے۲۹۰؍ ملین ڈالر کا تعاون کیا، جس سے وہ امریکی انتخابی سیاست میں سب سے بڑے خرچ کرنے والوں میں سے ایک بن گئے۔
امریکی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹیک ارب پتی ایلون مسک، جو دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل دائیں بازو کے امریکی امیدواروں کی مہم کو فروغ دینے والی تنظیموں کو۲۷۶؍ ملین ڈالر کا تعاون دیا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق، جولائی سے دیا گیا یہ مجموعہ، مسک کو۳؍ نومبر کے انتخابات کے لیے سب سے بڑا واحد عطیہ دہندہبناتا ہے۔ انہوں نے اس انتخابی مہم میں کل۳۶۶؍ ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔فنڈنگ کا سب سے بڑا وصول کنندہ ریپبلکن کا سینیٹ لیڈرشپ فنڈ تھا، جسے۱۵۸؍ ملین ڈالر ملے، جس کا مقصد کانگریس کے ایوان بالا پر پارٹی کا کنٹرول برقرار رکھنا ہے حالانکہ اسے معمولی اکثریت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس پر۱۶۰۰؍ نئی پابندیوں کی منظوری دیدی گئی: یورپی یونین
واضح رہے کہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے مالک امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر خرچ کرنے سے ناواقف نہیں ہیں، انہوں نے۲۰۲۴ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب جیتنے میں مدد کے لیے۲۹۰؍ ملین ڈالر کا تعاون کیا تھا۔ٹرمپ نے مسک کو کئی مہینوں تک وہائٹ ہاؤس میں اپنے لاگت کم کرنے والے ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (ڈوج) منصوبے کی نگرانی کے لیے کام کرنے کی اجازت دی، بعد ازاں صدر کے ساتھ عوامی اختلاف کے بعد انہوں نے یہ کردار چھوڑ دیا۔ تاہم اس کے بعد سے ان میں صلح ہو گئی ہے، اور ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ڈی سی میں ایک تقریب میں مسک کو نیشنل میڈل آف سائنس سے نوازا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور پوتن کے درمیان معاہدہ کی تفصیلات پر زیلنسکی کا اظہار حیرت
اگرچہ امریکہ میں انفرادی مہم کے عطیات فی شخص۳۳۰۰؍ ڈالر تک محدود ہیں،تاہم امریکی مہم کے مالیاتی نظام میں خامیوں کی وجہ سے سیاسی بڑے عطیہ دہندگان کو پولیٹیکل ایکشن کمیٹیوں یا ’’پی اے سی‘‘ کے نام سے جانے والے فنڈز میں تعاون کرنے کی اجازت ملتی ہے، جو امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں۔نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ مسک نے اس موسم گرما میں اپنے امریکہ پی اے سی کو۷۶؍ ملین ڈالر عطیہ کیے۔ علاوہ ازیں مسک کے سیاسی عطیہکے دیگر وصول کنندگان میں ریپبلکن کے کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ کو۲۰؍ ملین ڈالر، ریپبلکن گورنرز ایسوسی ایشن اور لون اسٹار لبرٹی پی اے سی کو۱۰؍-۱۰؍ ملین ڈالر، اور ریپبلکن اٹارنی جنرلز ایسوسی ایشن کو۲؍ ملین ڈالر شامل ہیں۔