• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فارمولا ون:۱۹۹۳ء کے بعد پہلی بار روانڈا میں گراں پری کا انعقاد ہوگا

Updated: October 13, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

موٹر ریسنگ کے شائقین کے لیے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ فارمولا ون نے ۱۹۹۳ء کے بعد پہلی مرتبہ افریقی براعظم میں واپسی کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں روانڈا کے ساتھ دس سالہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت ۲۰۳۰ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں فارمولا ون افریقی گراں پری کا انعقاد کیا جائے گا۔

Rwanda.Photo:X
روانڈا۔ تصویر:ایکس

 موٹر ریسنگ کے شائقین کے لیے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ فارمولا ون نے ۱۹۹۳ء کے بعد پہلی مرتبہ افریقی براعظم میں واپسی کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں روانڈا کے ساتھ دس سالہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت ۲۰۳۰ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں فارمولا ون افریقی گراں پری کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس تاریخی فیصلے کے ساتھ تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد افریقہ دوبارہ فارمولا ون عالمی چیمپئن شپ کے کیلنڈر میں شامل ہونے کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے۔ یہ اعلان روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں کیا گیا، جہاں فارمولا ون کے چیف ایگزیکٹیو اسٹیفانو ڈومینیکالی، روانڈا کے صدر پال کاگامے اور بین الاقوامی موٹر اسپورٹس فیڈریشن کے صدر محمد بن سلیم موجود تھے۔ معاہدے کے مطابق، فارمولا ون کی نئی ریس روانڈا کے علاقے بگوسیرا (Bugesera) میں منعقد کی جائے گی، جو دارالحکومت کیگالی سے تقریباً ۴۰؍ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہاں ایک نیا، خصوصی طور پر تیار کردہ ریسنگ سرکٹ تعمیر کیا جائے گا، جسے بین الاقوامی موٹر اسپورٹس فیڈریشن کے گریڈ ون معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ فارمولا ون مقابلوں کے لیے اس معیار کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔


مجوزہ سرکٹ کو علاقے کے قدرتی جغرافیے اور زمین کی اونچ نیچ سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ ڈرائیوروں کو ایک منفرد اور چیلنجنگ ریسنگ تجربہ مل سکے۔ یہ مقام زیرِ تعمیر نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بھی ہوگا، جس سے مستقبل میں بین الاقوامی شائقین اور ٹیموں کی آمدورفت میں سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، ریس کے آغاز کی حتمی تاریخ سرکٹ کی تعمیر اور تیاری مکمل ہونے کے بعد طے ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے:موہن لال نے اجے دیوگن کی فلم ’’دِرِیشیم ۳‘‘ کی تعریف کی

افریقی براعظم میں آخری فارمولا ون گراں پری ۱۴؍ مارچ ۱۹۹۳ء کو جنوبی افریقہ کے کیالامی سرکٹ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس مقابلے میں فرانس کے معروف ڈرائیور ایلین پروست نے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ برازیل کے آئرٹن سینا دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس کے بعد سے فارمولا ون کا کوئی باقاعدہ عالمی چیمپئن شپ مقابلہ افریقی سرزمین پر منعقد نہیں ہوا۔روانڈا کے ساتھ ہونے والا نیا معاہدہ اس طویل وقفے کو ختم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ روانڈا اس سے قبل بھی بین الاقوامی کھیلوں اور بڑے عالمی پروگراموں کی میزبانی کے ذریعے اپنی شناخت مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ 
فارمولا ون کے سات مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والے برطانوی ڈرائیور لیوس ہیملٹن طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ فارمولا ون کو افریقہ میں بھی ریس منعقد کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا رہا ہے کہ جب یہ کھیل دنیا کے دیگر آباد براعظموں میں منعقد ہوتا ہے تو افریقہ کو بھی عالمی چیمپئن شپ میں نمائندگی ملنی چاہیے۔ فارمولا ون انتظامیہ کے مطابق، افریقہ میں اس کھیل کے دس کروڑ سے زیادہ شائقین موجود ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نئی ریس سے افریقی شائقین کو عالمی معیار کی موٹر ریسنگ اپنے براعظم میں دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا دورے کے لیے آرچر اور بیتھل کی انگلینڈ کی ون ڈے ٹیم میں واپسی

روانڈا کی حکومت کو امید ہے کہ فارمولا ون گراں پری کے انعقاد سے ملک میں سیاحت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ بڑے عالمی مقابلوں کے دوران بین الاقوامی شائقین، کاروباری اداروں، نشریاتی اداروں اور اسپانسرز کی آمد سے ہوٹلوں، نقل و حمل، مہمان نوازی اور دیگر شعبوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ صدر پال کاگامے نے اس معاہدے کو افریقہ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ شراکت داری روانڈا کے مستقبل میں سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، نیا ریسنگ سرکٹ اور ہوائی اڈے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے منصوبے روزگار، مہارتوں کی ترقی، سیاحت اور کاروباری مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ روانڈا کے ساتھ معاہدے کے باوجود جنوبی افریقہ نے بھی فارمولا ون کی میزبانی کی امید نہیں چھوڑی ہے۔ جنوبی افریقہ کے حکام کیالامی سرکٹ یا کیپ ٹاؤن میں ریس منعقد کرانے کے امکانات پر کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم، فارمولا ون کے مصروف کیلنڈر، سرکٹ کے مطلوبہ معیار اور میزبانی کے انتظامات کے باعث کسی بھی نئی ریس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK