• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے لیبر قوانین سے نجی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ

Updated: January 19, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi

تیسری سہ ماہی میں ایچ ڈی ایف سی اور آئی سی آئی سی آئی جیسے بینکوں کے اوپیکس میں نمایاں اضافہ۔ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کی اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ء کی سہ ماہی میں ان کمپنیوں کے آپریٹنگ اخراجات (اوپریٹنگ ایکسپینس یا اوپیکس) گزشتہ مدت کے مقابلے میں زیادہ رہے ہیں۔

Indian Bank.Photo:INN
ہندوستانی بینک۔ تصویر:آئی این این

 مرکزی حکومت کی جانب سے نومبر ۲۰۲۵ء میں نافذ کیے گئے نئے لیبر قوانین (نیو لیبر کوڈز) کے باعث نجی شعبے کے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں پر ملازمین سے متعلق اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ مالی سال  ۲۶۔۲۰۲۵ء کی اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ء کی سہ ماہی میں ان کمپنیوں کے آپریٹنگ اخراجات (اوپریٹنگ ایکسپینس یا اوپیکس) گزشتہ مدت کے مقابلے میں زیادہ رہے ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے نجی بینک ایچ ڈی ایف سی بینک نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ۱۸۷۷۰؍کروڑ روپے کے آپریٹنگ اخراجات درج کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ اخراجات ۱۷۱۱۰؍ کروڑ روپے تھے۔ اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں ایچ ڈی ایف سی بینک نے بتایا کہ نئے لیبر قوانین کی وجہ سے۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی اور نو ماہ کی مدت کے دوران ملازمین کی لاگت میں تقریباً ۸۰۰؍ کروڑ روپے کا اضافی اثر پڑا ہے، جسے منافع و نقصان کے کھاتے میں شامل کیا گیا ہے۔
بینک نے یہ بھی کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ضوابط اور وضاحتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹنگ میں تبدیلی کرے گا۔ اسی طرح آئی سی آئی سی آئی بینک نے بتایا کہ نئے لیبر قوانین کے باعث اس سہ ماہی میں اس کے منافع و نقصان کے کھاتے پر تقریباً ۱۴۵؍ کروڑ روپے کا اثر پڑا ہے۔ یس بینک نے بھی نئے ضوابط کی وجہ سے ۱۵۵؍کروڑ روپے کا اضافی خرچ شامل کیا ہے  جبکہ فیڈرل بینک نے ۸ء۲۰؍ کروڑ روپے کی پروویژننگ کی ہے اور آر بی ایل بینک نے تقریباً ۳۲؍ کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کا اندازہ لگایا ہے۔
 نجی شعبے کی انشورنس کمپنیوں پر بھی نئے لیبر قوانین کا اثر پڑا ہے۔ ایچ ڈی ایف سی لائف انشورنس نے ملازمین سے متعلق فوائد کے لیے۰۲ء۱۰۶؍ کروڑ روپے کا اضافی بندوبست کیا ہے، جسے کمپنی کی مجموعی آمدنی سے منہا کیا گیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی پرُوڈینشل لائف انشورنس نے ۰۴ء۱۱؍کروڑ روپے جبکہ آئی سی آئی سی آئی لومبارڈ جنرل انشورنس نے  ۰۶ء۵۳؍کروڑ روپے کے اثر کا تخمینہ لگایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بی جے پی لیڈراوراداکار منوج تیواری کی رہائش گاہ پر لاکھوں کی چوری

اس کے برعکس، سرکاری شعبے کے بینکوں کی تنخواہوں کی ساخت پہلے ہی نئے قوانین کے کافی قریب تھی، اس لیے انہیں کسی بڑی تبدیلی یا اضافی پروویژن کی ضرورت نہیں پڑی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، نئے لیبر قوانین کے تحت تنخواہوں کی ساخت میں تبدیلی آئے گی، جس میں بنیادی تنخواہ اور کچھ ضروری الاونسز کا حصہ بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں آجرین کو ملازمین کی گریجویٹی اور پنشن فنڈ میں زیادہ رقم جمع کرنی پڑے گی، جس سے کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:’’میری خواہش ہے کہ میں ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام کروں ‘‘

 ۲۱؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو حکومتِ ہند نے چار نئے لیبر قوانین کو نوٹیفائی کیا تھا، جن میں ویجز کوڈ ۲۰۱۹ء، انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ۲۰۲۰ء، سوشل سیکوریٹی کوڈ ۲۰۲۰ء اور آکیوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ۲۰۲۰ء شامل ہیں۔ ان قوانین کو مجموعی طور پر ’’نیو لیبر کوڈز‘‘ کہا جاتا ہے، جو پہلے کے ۲۹؍ لیبر قوانین کو یکجا کرتے ہیں۔ محکمہ محنت و روزگار نے گزشتہ ماہ ان نئے قوانین سے متعلق مسودہ مرکزی ضوابط اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات (ایف اے کیوز) جاری کیے تھے، تاکہ کمپنیاں ان تبدیلیوں کے مالی اثرات کا اندازہ لگا سکیں۔ اس کے بعد بینکوں اور انشورنس کمپنیوں نے اپنے منافع و نقصان کے کھاتوں میں اضافی اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK