اومائیکرون کے تعلق سے بیشتر یورپی ممالک میں نئی پابندیاں نافذ

Updated: December 23, 2021, 7:41 AM IST | Washington

جرمنی میں ۲۸؍ دسمبر کے بعد نائٹ کلب بند، نجی محفلوں میں ۱۰؍ سے زائد لوگوں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں۔ پرتگال میں بھی ۲۶؍ دسمبر سے نائٹ کلبوں کو بند کرنے اور دفاتر کے کام گھر سے کرنے کا حکم۔ فن لینڈ میں ۳؍ ہفتوں تک ریسٹورنٹ اور کلب جزوقتی طور پر کھولے جائیں گے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اومائیکرون کے پورے یورپ میں پھیلنے کا خدشہ

Precautionary measures and corona testing have been increased worldwide (Agency)
دنیا بھر میں احتیاطی تدابیر اور کورونا ٹیسٹنگ بڑھا دی گئی ہیں ( ایجنسی)

رونا وائرس کی نئی قسم او مائیکرون کے یورپ بھر میں پھیلنے کے بعدیہاںسماجی پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا رہی ہیں۔جرمنی اور پرتگال نے  کرسمس کے بعد سخت تر سماجی دوری کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران بر اعظم یورپ میں عالمی ادارۂ صحت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہانس کلوگ نے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ یہاں کے ممالک کے نظامِ صحت کو انہدام کے قریب لا کھڑا کرے گا۔اُنھوں نے کہا کہ `ایک اور طوفان آ رہا ہے اور حکومتوں کو متاثرین کی تعداد میں خاصے اضافے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
 جرمنی نے اعلان کیا ہےکہ ۲۸؍ دسمبر سے نجی محفلوں میں صرف ۱۰؍ لوگوں کی شرکت کی اجازت ہوگی جبکہ نائٹ کلب بند کر دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فٹ بال میچ بھی شائقین کے بغیر ہوں گے۔جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے منگل کو کہا کہ `کورونا وائرس کرسمس کی چھٹیاں نہیں کرتا۔ ہم اس اگلی لہر کے بارے میں آنکھیں نہیں بند کر سکتے  جو اب ہمارے سر پر کھڑی ہے۔اسی دوران پرتگال نے بھی ۲۶؍ دسمبر سے نائٹ کلب اور شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ۹؍ جنوری تک دفاترکیلئے گھر سے کام کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔اس کے علاوہ کھلی فضا میں اجتماعات کو بھی صرف ۱۰؍ لوگوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
 فن لینڈ میں بھی شراب خانوں اور ریستورانوں کو ۲۴؍ دسمبر کو رات ۱۰؍ بجے بند کر دیا جائے گا۔  اس کے بعد ۲۸؍دسمبر سے تین ہفتوں کیلئے  ریستورانوں کو ۶؍بجے بند کرنا  ہو گا جبکہ نشستیں محدود رکھی جائیں گی۔یورپ کے ویزا فری شینگن ممالک سے آنے والوں کو کووڈ کا منفی ٹیسٹ دکھانا ہو گا۔سوئیڈن میں شراب خانے، کیفے اور ریستوران بدھ سے صرف محدود تعداد میں موجود نشستوں پر موجود لوگوں کو ہی کھانا فراہم کر ر ہے ہیں ۔ ادھر برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جانسن نے کرسمس سے قبل انگلینڈ میں نئی پابندیوں کو خارج از امکان قرار دیا ہے تاہم اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سبھی نے  سماجی میل جول پر حدود نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
   اس دوران عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس کے یورپی خطے میں جس میں روس اور ترکی بھی شامل ہیں،۵۳؍ میں سے ۳۸؍ ممالک میں اومائیکرون ہی کووڈ کی غالب قسم ہے۔ خطے میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ہانس کلوگ نے   بتایا کہ `ہم ایک اور طوفان آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ کچھ ہی ہفتوں میں اومائیکرون   اس خطے کے زیادہ تر ممالک میں غالب قسم ہو گا اور پہلے ہی دباؤ کا شکار صحت کا نظام تباہی کے دہانے تک پہنچ جائےگا۔اُنھوں نے کہا  کہ `نئے کووڈ انفیکشن کی بڑی تعداد کے باعث اسپتالوں میں داخلے میں اضافہ ہو سکتا ہے اور صحت کے نظام اور دیگر اہم خدمات وسیع پیمانے پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ انگلینڈ میںحکام نے اعلان کیا ہے کہ کورونا مریضوں کا اگر ٹیسٹ دو مرتبہ منفی آ جائے تو وہ تین دن قبل قرنطینہ ختم کر سکتے ہیں۔ اب اگر وہ چھٹے اور ساتویں دن منفی رپورٹ دکھا سکیں تو اُنھیں ۱۰؍  کے بجائے صرف ۷؍ دن  قرنطینہ  میں رہنا ہو گا۔

Omicron Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK