Updated: July 24, 2026, 4:06 PM IST
| New York
امریکہ نے جبری مشقت (Forced Labour) سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد کے خلاف نئی تجارتی پالیسی کے تحت ہندوستانی اشیا پر ۱۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ابتدا میں ہندوستان کے لیے ۵ء۱۲؍ فیصد ٹیرف پر غور کیا جا رہا تھا تاہم واشنگٹن کے ساتھ مزدوروں کے حقوق سے متعلق تعمیری مذاکرات کے بعد اسے کم کرکے ۱۰؍ فیصد کر دیا گیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکہ نے جبری مشقت (Forced Labour) سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد کے خلاف نئی تجارتی پالیسی کے تحت ہندوستانی اشیا پر ۱۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ابتدا میں ہندوستان کے لیے ۵ء۱۲؍ فیصد ٹیرف پر غور کیا جا رہا تھا تاہم واشنگٹن کے ساتھ مزدوروں کے حقوق سے متعلق تعمیری مذاکرات کے بعد اسے کم کرکے ۱۰؍ فیصد کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:امیزون کے ملازمین کی برطرفیاں پھر شروع، اے جی آئی ٹیم میں متعدد عہدے ختم
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (USTR) نے جمعرات کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر۶۰؍ معیشتوں کے لیے ۱۰؍ سے ۵ء۱۲؍ فیصد تک کے ٹیرف کا اعلان کیا۔ یہ اقدام ان ممالک کے خلاف کیا گیا ہے جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
ہندوستان ان ۱۷؍ ممالک میں شامل ہے جنہیں ۱۰؍ فیصد ٹیرف والے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس فہرست میں برطانیہ، کنیڈا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ملائیشیا، ارجنٹائنا، کمبوڈیا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’ٹی وی شوز میں آدمی کی حقیقت جبکہ ورٹیکل میں خوابوں کی دنیا دکھائی جاتی ہے‘‘
یو ایس ٹی آر کے مطابق۱۰؍ فیصد ٹیرف ان ممالک پر لاگو ہوگا جنہوں نے یا تو جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے، یا باہمی تجارتی معاہدے کے تحت ایسی پابندی نافذ کرنے کا عہد کیا ہے، یا پھر جزوی پابندی پہلے ہی نافذ ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اخلاقی دباؤ ڈالنے کے باوجود عالمی سپلائی چینز سے جبری مشقت کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے برسوں پہلے ایسی مصنوعات پر پابندی عائد کر دی تھی اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرز پر مؤثر اقدامات کریں۔