Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ایوان نمائندگان نے ایران جنگ کے خلاف ٹرمپ کے اختیارات محدود کردئے

Updated: July 24, 2026, 5:04 PM IST | Washington

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کر دیے، جبکہ سینیٹ نے صدر کی حمایت کی،اس قرارداد میں ٹرمپ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اس وقت تک روکیں جب تک وہ کانگریس سے منظوری حاصل نہ کر لیں۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

مریکی ایوانِ نمائندگان (جس میں ریپبلکن اکثریت ہے) نے جمعرات کو ایک قرارداد کی حمایت کی جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اس وقت تک روکیں جب تک وہ کانگریس سے منظوری حاصل نہ کر لیں۔ تاہم، چند گھنٹے بعد سینیٹ نے اسی طرح کی ایک علاحدہ قرارداد کو روک کر ٹرمپ کا ساتھ دیا۔ایوان میں یہ ووٹ ۲۱۴ کے مقابلے ۲۰۸ سے جنگ کے اختیارات کی قرارداد کے حق میں منظور ہوا، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ووٹ دیا۔ یہ ووٹ کانگریس کی جانب سے ٹرمپ کی تازہ ترین سرزنش تھی۔ تاہم سینیٹ نے ایوان کے ووٹ کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اپنی جنگی اختیارات کی قرارداد کو ۴۹ کے مقابلے ۴۷ ووٹوں سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کے پُل یا پاوراسٹیشن پر حملہ کی دھمکی

واضح رہے کہ ایوان کی یہ قرارداد، جسے واشنگٹن کی ڈیموکریٹ رکن پرمیلا جے پال نے پیش کیا، صدر کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کوجنگی محاذ سے ہٹا دیں جب تک کہ کانگریس اس کی اجازت نہ دے۔ تاہم، یہ قرارداد زیادہ تر علامتی نوعیت کی تھی۔گزشتہ مہینوں میں قانون ساز بارہا ایسی قراردادیں منظور کر چکے ہیں، لیکن ان سے جنگ کے خاتمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایوان میں حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن مشی گن کے ٹام بیرٹ، پنسلوانیا کے برائن فٹز پیٹرک ، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن اور کینٹکی کے تھامس میسی تھے۔ سینیٹ کے طریقہ کار کے ووٹ میں، میری لینڈ کی ریپبلکن سوسن کولنز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ حق میں ووٹ دیا، جبکہ پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ جان فیٹرمین نے ریپبلکن کے ساتھ مخالفت میں ووٹ دیا۔ جبکہ چار سینیٹر نے ووٹ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کے خلاف ، برطانیہ سعودی کے ساتھ

یاد رہے کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی ایوان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت رکھتی ہے۔یہ ووٹ دونوں جماعتوں کے قانون سازوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ ٹرمپ نے اس تنازع کو ایک تیز اور محدود کارروائی قرار دیا تھا جو ایران کو زیر کر دے گی، مگر یہ امریکہ کے لیے ایک دلدل بن چکا ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ نے حال ہی میں ایران پر حملوں میں اضافے اور مزید امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء  جب یمنی باغیوں نے بحیرۂ احمر میں دو سعودی تیل ٹینکر کو نشانہ بنایا، ٹرمپ نے ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کو بڑی فوجی سزا دینے کا وعدہ کیا،جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ دوسری بڑے آبنائے تک پھیل گئی۔
 مزید برآں، جنگ ختم کرنے کے لیے عارضی جنگ بندی کے عملاً ختم ہونے کے دو ہفتے بعد، امریکی فوج نے ایران پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں امریکی اڈوںکو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK