Updated: October 16, 2026, 4:11 PM IST
| New York
نیویارک میں کالج کی ڈگری رکھنے اور نہ رکھنے والے نوجوانوں کے درمیان بے روزگاری کی شرح کا فرق کم ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ابتدائی سطح کی دفتری ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ امریکا میں کالج کی تعلیم کو انتہائی اہم سمجھنے والوں کی شرح بھی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
کئی دہائیوں سے روزگار کے بازار میں یہ تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم مستحکم ملازمت حاصل کرنے کا سب سے یقینی راستہ ہے۔ تاہم، نیویارک شہر میں ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ اب صورتِ حال شاید پہلے جیسی نہیں رہی۔ نیویارک میں کالج کی ڈگری رکھنے والے نوجوانوں اور ڈگری نہ رکھنے والے ان کے ہم عمر افراد کے درمیان بے روزگاری کی شرح کا فرق نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔ رواں سال چند ماہ ایسے بھی آئے جب ڈگری نہ رکھنے والے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح، ڈگری یافتہ نوجوانوں کے مقابلے میں معمولی طور پر کم رہی۔ یہ صورتِ حال اس بات کی ممکنہ علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ابتدائی سطح کی دفتری ملازمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انتھروپک کا انتباہ: اے آئی ماڈلز ۲۰۲۶ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں خود بنانے کے قابل ہوگے
’بزنس انسائیڈر‘ نے حال ہی میں نیویارک میٹروپولیٹن علاقے میں ۲۲؍ سے ۲۷؍ سال کی عمر کے ایسے نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح کا تجزیہ کیا جن کے پاس کالج کی ڈگری ہے اور جن کے پاس ڈگری نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے کرنٹ پاپولیشن سروے کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے، جو ’آئی پی یو ایم ایس‘ کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ تجزیے میں گزشتہ ۱۲؍ ماہ کی اوسط شرح کو مدنظر رکھا گیا۔ جون میں نیویارک کے ان نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح یکساں طور پر ۷ء۷؍ فیصد تھی جن کے پاس ڈگری نہیں تھی اور ان نوجوانوں میں بھی جن کے پاس بیچلر ڈگری یا اس سے اعلیٰ تعلیمی سند تھی۔ تاہم، ستمبر تک ڈگری نہ رکھنے والے نوجوانوں میں یہ شرح بڑھ کر ۸ء۱؍ فیصد ہوگئی، جبکہ ڈگری یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۷ء۳؍ فیصد رہی۔
نیویارک سٹی کے کمپٹرولر مارک لیوین کی جانب سے مئی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریکارڈ میں پہلی مرتبہ بیچلر ڈگری یا اس سے اعلیٰ تعلیم رکھنے والے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح، کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں معمولی طور پر زیادہ ہوگئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تاریخی تبدیلی حالیہ گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح بڑھنے اور اسی عمر کے ان بالغ افراد میں بے روزگاری کم ہونے کے بعد سامنے آئی جن کے پاس کالج کی ڈگری نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈگری نہ رکھنے والے افراد میں بے روزگاری کی شرح تاریخی طور پر نسبتاً زیادہ رہی ہے۔
نیویارک میں کالج کی ڈگری کے روزگار سے متعلق فوائد میں کمی ایسے معاشی ماحول میں دیکھی جا رہی ہے جہاں نئی بھرتیاں کم ہیں، لیکن ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کی شرح بھی کم رہی ہے۔ ملازمتوں کے مواقع بھی محدود ہوئے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر ان شعبوں میں نمایاں ہے جو مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، مثلاً ٹیکنالوجی کا شعبہ، جہاں ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے مواقع میں کمی آئی ہے۔ نیویارک سٹی کے کمپٹرولر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کی ایک وجہ یہ ہے کہ تکنیکی مہارتوں کی اہمیت کم ہوگئی ہے، کیونکہ ان میں سے بعض کام اب مصنوعی ذہانت انجام دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس، سماجی و ابلاغی مہارتوں اور کسی مخصوص کمپنی یا صنعت سے متعلق خصوصی معلومات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کے تقریباً ایک تہائی دولت مند شہری ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں: رپورٹ
رپورٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر نوجوان ملازمین پر پڑتا ہے، کیونکہ انہیں ابھی تک کسی ادارے کے طریقۂ کار اور اندرونی نظام سے متعلق تجربہ حاصل کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا ہوتا۔ لیوین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر نیویارک کے نوجوانوں کی روزگار سے متعلق بدلتی ہوئی صورتِ حال کو اس بات کی ایک اور ممکنہ علامت قرار دیا کہ مصنوعی ذہانت پہلے ہی شہر میں ملازمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ واضح ہو کہ یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب زیادہ سے زیادہ امریکی اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اب بھی فائدہ مند ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے دور میں۔ اکتوبر میں جاری کیے گئے گیلپ سروے کے مطابق، امریکیوں کی ریکارڈ حد تک کم تعداد، یعنی صرف ۳۱؍ فیصد، کالج کی تعلیم کو ’’انتہائی اہم‘‘ سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس، کالج کی تعلیم کو ’’زیادہ اہم نہیں‘‘ سمجھنے والے امریکیوں کی شرح میں بھی تقریباً اسی قدر اضافہ ہوا ہے۔ یہ تبدیلی مختلف آبادیاتی گروہوں میں دیکھی گئی، ان گروہوں میں بھی جو عموماً کالج کی تعلیم کو زیادہ اہمیت دیتے رہے ہیں۔ تاہم گیلپ کی رپورٹ کے مطابق، اس تبدیلی کی ایک وجہ کالج کی تعلیم پر آنے والی بڑھتی ہوئی لاگت بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم، اگر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ملازمت تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے، تب بھی کالج کی ڈگری رکھنے والوں کو حاصل ہونے والا زیادہ تنخواہ کا فائدہ ختم نہیں ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانوں کو اب ایسی تنخواہوں والی ملازمتیں حاصل کرنے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ وقت لگے۔