نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں قتل عام کے ملزم کو ۲۴؍ اگست کو پھانسی

Updated: July 04, 2020, 11:56 AM IST | Christchurch

مہلوکین کے اہل خانہ موقع پر نہ پہنچ سکے تو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انہیں کارروائی میں شامل کیا جائے گا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

نیوزی لینڈ میں گزشتہ سال دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرکے ۵۰؍ نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی حملہ آور کو ۲۴؍ اگست کو سزائے موت دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کی عدالت عالیہ کے جج جسٹس کیمرون مینڈر نے مساجد پر حملے میں ملوث آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ کو سزائے موت سنائی ہے ۔ ساتھ اس کی پھانسی کیلئے ۲۴؍ اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ پھانسی کی جو تاریخ مقرر کی گئی ہے وہ سزا سنائے جانے کے دن سے کافی دور ہے۔ استغاثہ نے اتنی تاخیر کی وجہ یہ بتائی کہ مساجد میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اس وقت نیوزی لینڈ میں موجود نہیں ہیں اور کوروناوائرس کے باعث فوری طور پر وہ واپس بھی نہیں آ سکتے۔استغاثہ نے مزید بتایا کہ اگر پھانسی کی تاریخ تک حالات معمول پر نہیں آئے اور مہلوکین کے لواحقین ۲۴؍ اگست تک نیوزی لینڈ نہیں پہنچ سکے تو مجرم کی پھانسی کے وقت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لواحقین کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ مجرم برینٹن پر گزشتہ سال کے اوائل ۵۱؍ افراد کو قتل اور ۴۰؍ افراد کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔ اس پر قتل اور اقدام قتل کے معاملات درج کئے گئے تھے۔یہ سانحہ ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں پیش آیا تھا جہاں کی دو مساجد ’ مسجد النور‘ اور ’’لِن ووڈ مسجد‘ اس آسٹریلوی نژاد نسل پرست شخص نے اندھادھند گولیاں چلائی تھیں جس میں ۵۱؍ نمازی شہید اور ۴۰؍ زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈن نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا بلکہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہ آسکے اس کیلئے بھی کئی اہم اقدام کئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK