سابق وزیر داخلہ پدم سنگھ پاٹل پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی پون راجے نمبالکر کو قتل کروایا ہے، پہلے یہ دونوں خاندان یو پی اے میں تھے اب مہایوتی میں ہیں
EPAPER
Updated: June 24, 2026, 8:58 AM IST | Nadir | Mumbai
سابق وزیر داخلہ پدم سنگھ پاٹل پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی پون راجے نمبالکر کو قتل کروایا ہے، پہلے یہ دونوں خاندان یو پی اے میں تھے اب مہایوتی میں ہیں
۲۰؍ جون ۲۰۲۶ء کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مشہور زمانہ پون راجے نمبالکر قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے ٹھیک پہلے مقتول کانگریس لیڈر نمبالکر کے رکن پارلیمان بیٹے اوم راجے نمبالکر جو اُ س وقت تک شیوسینا (ادھو) میں تھے ، پارٹی چھوڑ کر شیوسینا(شندے) میں جانے کا اعلان کر چکے تھے۔ شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے الزام لگایا تھا کہ مودی حکومت نے اوم راجے نمبالکر سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ مہا وکاس اگھاڑی کا ساتھ چھوڑ کر مہایوتی میں شامل ہو جاتے ہیں تو ان کے والد کے قتل کےمقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ یعنی نمبالکر قتل کے ملزمین کو سزا دی جائے گی لیکن جب عدالت نے فیصلہ سنایا تو وہ اوم راجے نمبالکر کی توقع اور سنجے رائوت کے دعوئوں کے بالکل برخلاف تھا۔ یعنی پون راجے نمبالکر قتل کے سارے ملزمین بری کر دیئے گئے۔ عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کئے گئے۔
جرم اور سیاست کی آمیزش کا حامل یہ قتل کسی فلمی کہانی سے کم نہیں تھا۔ ۳؍ جون ۲۰۰۶ء کو کانگریس لیڈر پون راجے نمبالکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ممبئی سے پونے کی طرف جا رہےتھے۔ اسی دوران نوی ممبئی کے کلمبولی علاقے میں کچھ لوگوں نے ان کی گاڑی کو روک کر ان پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ میں پون راجے کے علاوہ ان کےڈرائیور صمد قاضی کی بھی موت ہو گئی۔ یہ واقعہ اپنے وقت میں سب سے مشہور قتل کیس تھا۔ اس کی جانچ مقامی پولیس سے لے کر سی بی آئی کے حوالے کی گئی۔ جانچ کےدوران معلوم ہوا کہ این سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پدم سنگھ پاٹل کے کہنے پر اس قتل کی سازش رچی گئی تھی۔پدم سنگھ پاٹل اصل میں پون راجے نمبالکر کے چچا زاد بھائی تھے اور انہی کی وجہ سے پون راجے سیاست میں داخل ہوئے تھے اور کو آپریٹیو سیکٹر میں ان کا دبدبہ قائم ہوا تھا لیکن ۲۰۰۲ء کے بعد یہ رشتے بگڑ گئے جب بدعنوانی کے الزام میں پون راجے کے خلاف کارروائی کی گئی۔ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ساری کارروائیاں پدم سنگھ پاٹل کے کہنے پر ہو رہی ہیں۔انہوں نے پدم سنگھ پاٹل کے خلاف احتجاج اور دھرنے شروع کر دیئے۔ دونوں کے تعلقات اس قدر بگڑ گئے کہ پدم سنگھ پاٹل نے ستیش منداڈے ، موہن شکلا اور پارس مل جین جیسے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پون راجے نمبالکر کو ٹھکانے لگا دیا۔
سی بی آئی کی جانچ میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی تھی ۔ ۲۰۰۹ء میں پدم سنگھ پاٹل سمیت ۹؍ لوگوںکو اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد میں ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا۔ ۲۰۱۱ء میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی جو ۱۵؍ سال تک جاری رہی۔ ۲۰؍ جون ۲۰۲۶ء کو جب اس مقدمے کا فیصلہ آیا تو سب حیران رہ گئے کیونکہ پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام ۹؍ لوگوںکو بری کر دیا گیا۔ ان ۲۰؍ سال میں بہت کچھ بدل گیا۔ پون راجے نمبالکر کے بیٹے اوم راجے نمبالکر شیوسینا (ادھو) کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہو گئے جو اب پارٹی کو چھوڑ کر شیوسینا (شندے) میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہی کے تعلق سے سنجے رائوت نے دعویٰ کیا تھا کہ مہایوتی نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ شندے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں تو ان کے والد کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا یعنی ملزمین کو سزا دی جائے گی لیکن سنجے رائوت کا یہ دعویٰ کمزور معلوم ہوتا ہے۔
اگر سنجے رائوت کی اس بات کو تسلیم کرلیا جائےکہ عدالت پر حکومت کا دبائو تھا تو پھر اس مقدمے میں ملزمین کو مجرم قرار دے کر سزا دینا یوں بھی مشکل تھا کیونکہ پدم سنگھ پاٹل جو اس قتل کے کلیدی ملزم تھے وہ موجودہ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کے بھائی ہیں۔ نیز پدم سنگھ پاٹل کے بیٹے رانا رنجیت سنگھ پاٹل ۲۰۱۹ء میں بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں اور عثمان آباد سے رکن پارلیمان بھی رہ چکے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں اوم راجے نمبالکر نے انہی کو شکست دی تھی۔یعنی حکومت کے پاس ملزمین کو بچانے کی زیادہ پختہ وجوہات تھیں بجائے ملزمین کو سزا دینے کے ۔ اب یہ بات کہ عدالت پر کس قدر دبائو تھا یا نہیں تھا یہ حکومت جانے اور عدالت ۔البتہ یہ مقدمہ سیاست اور رشتوں کا عجیب وغریب رخ پیش کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پون راجے نمبالکر کے قتل اور پدم سنگھ پاٹل کی گرفتاری کے وقت نمبالکر اور پاٹل دونوں ہی خاندان مہاوکاس اگھاڑی ( اس وقت یو پی اے)کے وفادار تھے۔ نمبالکر کانگریس میں پاٹل این سی پی میں ۔ اب جبکہ اس مقدمے کا فیصلہ آیا ہے یہ دونوں خاندان مہایوتی کے خیمے میں ہیں۔ پدم سنگھ کے بیٹے رانا رنجیت پاٹل بی جے پی میں اور نمبالکر کے بیٹے اوم راجےنمبالکر شیوسینا (شندے) میں۔