آبنائے ہرمز کے ذریعے ۵؍ دنوں میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے۲۰؍ فیصد سے زیادہ پر بحال ہو گئی ہے،جبکہ ۱۴۴؍جہازوں نے امریکہ-ایران کے۱۴؍ نکاتی یادداشت کے بعد۵؍ دنوں میں اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 10:02 PM IST | Tehran
آبنائے ہرمز کے ذریعے ۵؍ دنوں میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے۲۰؍ فیصد سے زیادہ پر بحال ہو گئی ہے،جبکہ ۱۴۴؍جہازوں نے امریکہ-ایران کے۱۴؍ نکاتی یادداشت کے بعد۵؍ دنوں میں اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک یادداشت ، جس میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہےکے بعد پانچ دنوں میں جنگ سے پہلے کی ایک دن کی سطح کے۲۰؍ فیصد سے زیادہ پر بحال ہوگئی ہے، جس میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے دنیا کے انتہائی اہم ترین آبی گزرگاہ میں سے ایک ہے،۲۸؍ فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ -اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً مفلوج ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی معاہدہ :ایران کے کچھ منجمد اثاثےفعال
واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے، روزانہ تقریباً۱۳۰؍ تجارتی بحری جہاز اس آبنائے سے گزرتے تھے۔ جبکہ تنازع کے دوران، یہ تعداد بعض دنوں میں صرف ایک جہاز تک رہ گئی تھی، جبکہ ۱۰۰؍ دنوں کی جنگ کے دوران یومیہ اوسطً تقریباً۱۰؍ جہاز رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں۹۵؍ فیصد تک کی کمی واقع ہوئی۔ بعد ازاں انادولو کی جانب سے ڈیٹا اینالیٹکس فرم Kpler اور MarineTraffic سے مرتب کردہ معلومات کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان۱۴؍ نکاتی یادداشت کے بعد، جس میں آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہے،۱۴۴؍ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد۱۸؍ جون کو۳۰؍ ، ۱۹؍ جون کو۱۹؍، ۲۰؍ جون کو۳۵؍، ۲۱؍ جون کو۲۱؍ اور۲۲؍ جون کو۳۹؍ درج کی گئی۔ پانچ دنوں کی اوسط تقریباً۲۹؍ جہاز فی دن بنتی ہے، جو جنگ سے پہلے کی ایک دن کی سطح کے۲۰؍ فیصد سے کچھ زیادہ کے برابر ہے۔ تاہم ایرانی تیل لے جانے والے ٹینکر پیر کو آبنائے عبور کرنے والے جہازوں میں نمایاں تھے۔ کم از کم چار سپرٹینکر، جن میں مشترکہ طور پر کم از کم ۷؍ملین بیرل ایرانی خام تیل تھا، اس دن آبنائے ہرمز سے گزرے۔جبکہ گزشتہ پانچ دنوں میں۱۳؍ ملین بیرل سے زیادہ ایرانی خام تیل اس آبی گزرگاہ سے گزر کر بین الاقوامی خریداروں کی طرف روانہ ہوا۔اسی دوران، سعودی عرب، عراق، قطر اور متحدہ عرب امارات میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے ٹینکرز کے بھی آبنائے سے گزرنے میں نمایاں اضافہ ہوا۔منگل کو صبح ساڑھے ۹؍ بجے تک، پانچ تجارتی جہاز آبنائے سے گزر چکے تھے۔ان میں یونیورسل گلوری شامل تھا، جس میں۲؍ ملین بیرل خام تیل تھا، اور مونٹی ارباسا، جس میں تقریباً ایک ملین بیرل تھا۔ دونوں ٹینکرز سعودی عرب کی بندرگاہ راس تنورہ سے روانہ ہوئے اور آبنائے ہرمز سے گزرے۔ یونیورسل گلوری جنوبی کوریا کی طرف روانہ ہے، جبکہ مونٹی ارباسا ہندوستان جا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹینکرز ان لوڈ شدہ جہازوں میں شامل تھے جو جنگ کے دوران خلیج فارس میں انتظار کر رہے تھے، اور اب مکمل کارگو کے ساتھ آبنائے کے ذریعے خطے سے باہر نکلنے کی پوزیشن میں ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں یادداشت پر امریکہ-ایران تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور، جس میں قطر اور پاکستان نے ثالثی کی منعقد ہوا۔مذاکرات کا مرکز۱۴؍ نکاتی یادداشت کے نفاذ سے متعلق تکنیکی تفصیلات پر تھا۔قطر اور پاکستان کی وزارتوں خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے یادداشت کے تحت ثالثی کوششوں کے سیاسی پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔مزید برآں فریقین نے۶۰؍ دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے ایک لائحےعمل پر بھی اتفاق کیا۔مذاکرات کے پہلے دور کے بعد، تکنیکی مذاکرات نے یادداشت کے نفاذ کے طریقہ کار پر ایک معاہدہ کیا۔ فریقین نے پابندیوں میں نرمی، جوہری مسائل، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پر ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔