Updated: June 23, 2026, 8:05 PM IST
| New York
امریکی روزنامے ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں نڈیلا نے فرنٹیر اے آئی ماڈل بنانے والی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول لامتناہی اور وسائل سے بھرپور پھیلاؤ کا جواز پیش کرنے کیلئے حفاظتی خطرات اور ملازمتوں کے خاتمے کے ہولناک بیانیے کو فروغ دیتے ہوئے قدر و قیمت پر اپنی اجارہ داری قائم کر رہی ہیں۔
مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے خبردار کیا ہے کہ عوام ایسے مستقبل کو کبھی برداشت نہیں کریں گے جہاں صرف مٹھی بھر کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کو اپنے کنٹرول میں رکھے۔ امریکی روزنامے ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نڈیلا نے فرنٹیر اے آئی ماڈل بنانے والی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول لامتناہی اور وسائل سے بھرپور پھیلاؤ کا جواز پیش کرنے کیلئے حفاظتی خطرات اور ملازمتوں کے خاتمے کے خوف پھیلانے والے بیانیے کو فروغ دیتے ہوئے قدر و قیمت پر اپنی اجارہ داری قائم کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی ملازمین صرف ۲۵۰؍ روپے فی گھنٹہ کیلئے اپنا مستقبل امریکی کمپنیوں کو فروخت کررہے ہیں
نادیلا نے وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ ”آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام وہائٹ کالر ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں۔ یہ ایک ہتھیار بھی بن سکتا ہے، اس لئے ہم ڈیٹا سینٹرز بنانے کیلئے اپنی پوری طاقت لگا دیں گے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ لوگ ایسے مستقبل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے جہاں صرف چند کمپنیاں ہی ”دنیا بھر کیلئے سیکھنے کا سارا کام کر رہی ہوں۔“ انہوں نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا لیکن بظاہر ان کا اشارہ اوپن اے آئی (OpenAI)، گوگل (Google) اور اینتھروپک (Anthropic) کی طرف تھا۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی مہارتیں مزید اہمیت اختیار کرتی جارہی ہیں، اے آئی ہیئت بدل رہا: رپورٹ
بڑی اے آئی کمپنیوں سے طاقت چھیننے کی حکمتِ عملی
نڈیلا نے کہا کہ مائیکروسافٹ مارکیٹ کو ایک ایسے مستقبل سے دور لے جانے کیلئے کوشاں ہے جو مکمل طور پر ملکیتی ماڈل بنانے والی چند کمپنیوں کے کنٹرول میں ہو۔ کاروباروں کیلئے اے آئی کے اخراجات کو کم کرنے کی غرض سے مائیکروسافٹ نے کئی سستے ماڈلز متعارف کروائے ہیں اور ایک خود مختار اے آئی ایجنٹ ’کوپائلٹ کوورک‘ (Copilot Cowork) پیش کیا ہے جو صارفین کو طویل کاموں کیلئے سستے اے آئی ماڈلز منتخب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کمپنی اب چین کے کم لاگت والے اے آئی ماڈل `ڈیپ سیک` (DeepSeek) کو اپنے اے آئی سوٹ میں شامل کرنے پر غور کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت سے بیروزگاری نہیں بڑھے گی بلکہ ملازمین کی قلت پیدا ہوگی: جیف بیزوس
نڈیلا نے ملازمتوں میں کٹوتی کے بیانیے کو مسترد کر دیا
نڈیلا نے ان اے آئی لیڈران کے خیالات کو مسترد کر دیا جو اس ٹیکنالوجی کو محض لاگت میں کٹوتی کے ایک ہتھیار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان، اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈائی نے کے انتباہ کے بعد سامنے آیا جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ ۲۰۲۹ء تک اے آئی کی وجہ سے ابتدائی سطح کی آدھی ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں، جبکہ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے حال ہی میں اس طرح کی پیشین گوئیوں سے قدم پیچھے ہٹا لئے ہیں۔
نڈیلا نے ملازمتوں میں کٹوتی کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”(اس کی بجائے) کیوں نہ ہم ملازمتوں کی ازسرِ نو تنظیم کے بارے میں سوچیں؟“ ان کا استدلال تھا کہ مستقبل میں کمپنیوں کو ”ٹوکن کیپیٹل“ (یعنی اندرونی اے آئی صلاحیت) اور انسانی سرمائے (ہیومن کیپیٹل) کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں
نڈیلا نے کہا کہ اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد کو چند کمپنیوں میں مرکوز کرنے کے بجائے بڑے پیمانے پر شیئر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے صرف بیانات نہیں بلکہ حقیقی عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ”صرف بیانیے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا... اب ہمیں سماجی اجازت حاصل کرنے کیلئے سخت محنت کرنی ہوگی۔“