Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی بنگال کے ایس آئی آر میں  ۹۱؍ لاکھ نام کٹ گئے، ممتا نے کہا:اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا

Updated: April 07, 2026, 11:49 PM IST | Kolkata

وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ خاطر خواہ مسلم آبادی والے مالدہ، مرشد آباد اور شمالی دیناج پور میں چن چن کر نام کاٹے گئے، اعلان کیا کہ ’’ ایس آئی آر میں جن کے نام نہیں آئے  وہ ٹربیونل میں اپیل کریں، ٹی ایم سی قانونی مدد فراہم کریگی‘‘

Mamata Banerjee`s looks are still the same as they were
ممتا بنرجی کے تیور اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے تھے

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں  ووٹر لسٹ کی ’’خصوصی جامع نظرثانی‘‘(ایس آئی آر)  کے بعد تقریباً۹۱؍ لاکھ  لاکھ ووٹروں کے نام کٹ گئے ہیں۔کمیشن نے ابھی تک  ریاست  میں ووٹرس کی حتمی تعداد کا باضابطہ اعلان نہیں کیا  تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر کے آخر  میں  ۷ء۶۶؍کروڑ ووٹرس کی شناخت ہوئی تھی جن میں   سے ۱۱ء۸۵؍فیصد کے نام کٹ گئے ہیں۔  اس طرح ایس آئی آرشروع ہونے کے بعد سے اب تک بنگال میں  ۹۰ء۸۳؍لاکھ نام ووٹر لسٹ  سے کٹ گئے ہیں۔  سب سے زیادہ نام  مرشد آباد  میں کٹے جہاں عدالتی جانچ کے تحت۱۱ء۰۱؍ لاکھ ناموں میں سے۴ء۵۵؍ لاکھ سے زیادہ نام حذف   ہوگئے  یعنی یہاں  ۴۱ء۳۳؍ فیصد نام کاٹے گئے۔
 شمالی۲۴؍پرگنہ ۵ء۹۱؍ لاکھ میں سے ۳ء۲۵؍  لاکھ سے زیادہ ووٹر نااہل قرار پائے جبکہ  مالدہ میں ۸ء۲۸؍ لاکھ میں سے۲ء۳۹؍ لاکھ سے زیادہ نام حذف کردیئے گئے۔جن ووٹروں کے نام کٹے ہیں   وہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت قائم ٹریبونل سے رجوع کر سکتے ہیں۔ 
   مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے  الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ میں متوا اور اقلیتی برادریوں کے افراد کے نام  حذف کئے  گئے ہیں۔نادیہ ضلع کے چکدہہ میں انتخابی  ریلی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس ان لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی جن کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر میں مخصوص برادریوں کو نشانہ بنا یا گیا  ہے۔ الیکشن کمیشن سے انہوں نے سوال کیا کہ ’’ یہ امتیاز کیوں؟ آپ متوا، راج بنشی اور اقلیتوں کو نکال رہے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے؟‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاطر خواہ مسلم آبادی والے مرشد آباد، مالدہ اور شمالی دیناجپور جیسے اضلاع میں نام ’’چن چن کر‘‘ نام کاٹے گئے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ  جن کے نام ایس آئی آر کے بعد جاری ہونے والی انتخابی فہرست میں نہیں ہیں وہ ٹریبونل سے رجوع کریں، ترنمول کانگریس انہیں قانونی مدد فراہم کرے گی۔
  مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے اسمبلی الیکشن میں اپنی فتح کے یقین کااظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست میں  حراستی کیمپ قائم نہیں ہونے دیں گی اورعوام کے آئینی حقوق کی بحالی کیلئے  جدوجہد جاری رکھیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK