کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کا آغاز آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں مایوس کن رہا ہے۔ تین میچوں کے بعد بھی کے کے آر کو اس سیزن میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔ تین بار کی چمپئن کے کے آر کے سامنے کئی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 07, 2026, 3:07 PM IST | Kolkata
کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کا آغاز آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں مایوس کن رہا ہے۔ تین میچوں کے بعد بھی کے کے آر کو اس سیزن میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔ تین بار کی چمپئن کے کے آر کے سامنے کئی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔
کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کا آغاز آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں مایوس کن رہا ہے۔ تین میچوں کے بعد بھی کے کے آر کو اس سیزن میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔ تین بار کی چمپئن کے کے آر کے سامنے کئی مشکلات نظر آ رہی ہیں، جن کا حل اگر بروقت نہ نکالا گیا تو ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اوپننگ جوڑی کا مسئلہ: اس سیزن کے لیے کے کے آر کی اننگز کا آغاز فن ایلن اور آجنگیا رہانے کر رہے ہیں۔ ایلن جارحانہ انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں، لیکن رہانے کی فارم تشویش کا باعث ہے۔ کچھ زوردار شاٹس کھیلنے کے بعد رہانے پاور پلے میں کافی سست نظر آ رہے ہیں۔ ایلن شروعات تو دھماکہ خیز کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک وہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔
کیمرون گرین کا خراب فارم: کے کے آر نے آکشن میں کیمرون گرین کے لیے۲۰ء۲۵؍کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ تاہم، گرین کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے ان کی پیٹھ کی انجری اور ورک لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے ابتدائی میچوں میں بولنگ نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی نمبر تین پر کھیلتے ہوئے کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ تین میچوں کے بعد گرین کے بیٹ سے صرف ۲۴؍ رنز آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بارش کی وجہ سے پنجاب کنگز اور کولکاتا نائٹ رائیڈرز کا میچ منسوخ
مڈل آرڈر: کے کے آر کا مڈل آرڈر بھی آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں کمزور نظر آ رہا ہے۔ انگکریش رگھو وشی نے نمبر ۴؍ پر کھیلتے ہوئے اچھی بیٹنگ کی ہے، لیکن انہیں باقی بیٹسمین کا خاص ساتھ نہیں ملا۔ عام طور پر کے کے آر کے لیے فِنِشر کی حیثیت رکھنے والے رنکُو سنگھ کو اس سیزن نمبر پانچ پر اتارا گیا ہے۔
رنکُو نے دو اننگز میں ۶۸؍ رنز بنائے ہیں، لیکن ان کا دھماکہ خیز انداز دیکھنے کو نہیں ملا۔ رمن دیپ سنگھ، انکُل رائے اور سنیل نرن سے کے کے آر ہر میچ میں شاندار کارکردگی کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ نارائن کو سن رائزرز حیدر آباد کے خلاف نمبر۸؍ پر بھیجا گیا تھا اور وہ صرف۱۲؍ رنز ہی بنا سکے تھے۔ رمن دیپ نے ۱۰؍ رنز اور انکُل بغیر کوئی رنز بنائے پویلین واپس آئے تھے۔ مڈل آرڈر میں تجربہ کار یا بڑے بیٹسمین کی کمی واضح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایل پی جی کے بعد پی این جی بھی مہنگی، آئی جی ایل نے قیمتوں میں اضافہ کیا
بولنگ بھی درد سر بنی: کے کے آر کے لیے آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں فاسٹ بولنگ سب سے کمزور پہلو مانا جا رہا تھا۔ ابتدائی میچوں میں یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوئی ہے۔ ویبھَوو ارودا اور بلیسنگ مجربانی مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔ کارتیک تیاگی بھی توقعات پر پورے نہیں اُتر سکے۔ پیس کے ساتھ اسپن ڈپارٹمنٹ میں ویرون چکرورتی اور سنیل نارائن کی خراب فارم نے ٹیم کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ویرون اور نارائن جوڑی پر کے کے آر گزشتہ کچھ برسوں سے کافی انحصار کر رہا ہے اور ان دونوں کی خراب کارکردگی ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔