• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میں ہمیشہ سیکھتا رہتا ہوں اور سیکھتے رہنا چاہتا ہوں:محمد سمیع

Updated: September 11, 2026, 10:04 PM IST | Mumbai

دلیپ ٹرافی میں اپنا ۱۰۰؍واں فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد سمیع نے کہا ہے کہ ۳۶؍ سال کی عمر پار کرنے کے باوجود ان کے اندر کرکٹ کھیلنے کی بھوک میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیکھتے رہتے ہیں اور سیکھتے رہنا چاہتے ہیں۔

Shami.Photo:X
سمیع۔ تصویر:ایکس

 دلیپ ٹرافی میں اپنا ۱۰۰؍واں فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد سمیع نے کہا ہے کہ ۳۶؍ سال کی عمر پار کرنے کے باوجود ان کے اندر کرکٹ کھیلنے کی بھوک میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیکھتے رہتے ہیں اور سیکھتے رہنا چاہتے ہیں۔ سمیع نے آخری بار ۲۰۲۵ء کی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی اور  ۲۰۲۳ء ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’مرزا پور: دی مووی‘‘ نے ۷؍ویں دن دنیا بھر میں ۲۰۰؍ کروڑ کا ہندسہ پار کر لیا

ایسٹ زون کی جانب سے کھیلنے والے سمیع نے دلیپ ٹرافی فائنل کے آخری دن کے کھیل کے بعد کہا کہ اگر آپ تلاش کریں تو جوش برقرار رکھنے کی بہت سی وجوہات مل جائیں گی۔ آپ اس میدان یا کسی بھی میدان سے مثبت چیزیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سطح پر اگر آپ خود سے پرجوش نہیں ہیں تو آپ کا نقطۂ نظر ہی غلط ہے۔ آپ کرکٹ کے کسی بھی سطح پر کھیل رہے ہوں، آپ کی نظر ہمیشہ اگلی سطح پر ہونی چاہیے۔ میں ہمیشہ ایک بات کہتا ہوں کہ آپ بیج کے لیے کھیلتے ہیں۔ جب آپ اپنے سینے پر وہ نشان پہنتے ہیں تو کرکٹ کی سطح معنی نہیں رکھتی۔ اگر آپ بیج کے لیے کھیلتے ہیں تو وہ بھوک خود بخود نظر آتی ہے۔ جب آپ اس فخر کے ساتھ کھیلتے ہیں تو لڑنے کی خواہش اور بڑھ جاتی ہے۔ میری سوچ بہت سادہ ہے کہ مجھے جس بھی سطح پر کھیلنے کا موقع ملے، میں اسے ٹیم کے لیے بامعنی بنانا اور اپنی ذمہ داری نبھانا چاہتا ہوں۔ 
چیپاک  کی بلے بازی کے لیے سازگار پچ پر سمیع نے نئی گیند سے روایتی سوئنگ اور پرانی گیند سے ریورس سوئنگ حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مکیش کمار کے ساتھ مل کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ دونوں نے مل کر ساؤتھ زون کو ۳۳۶؍ رن پر آؤٹ کردیا اور ایسٹ زون کو پہلی اننگز میں بڑی برتری دلائی، جو بالآخر اسے خطاب جتانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔انہوں نے کہاکہ میں ہمیشہ سیکھتا رہتا ہوں اور سیکھتے رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے حالات میں آپ زیادہ روایتی سوئنگ کی توقع نہیں کرسکتے اور باؤنس بھی بہت کم تھا۔ مجھے اپنی لائن اور لینتھ پر مکمل اعتماد ہے اور میں اسی کے ذریعے وکٹیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں  اور سچ کہوں تو اگر آپ ایسی گرمی میں ریورس سوئنگ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے۔ اگر ٹاپ آرڈر کے بلے باز کریز پر جم چکے ہوں تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے انہیں آؤٹ نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پر ایسی پچوں پر وکٹیں خود بخود نہیں ملتیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ گیند کو مسلسل ان سے دور رکھا جائے، انہیں اسی کی توقع دلائی جائے اور پھر ایک گیند تیزی سے اندر لاکر انہیں پھنسایا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے:چنئی سپرکنگز کے اگلے کوچ کا فیصلہ ایم ایس دھونی کریں گے

دلیپ ٹرافی کے فائنل کے چوتھے دن جب ایشان کشن میدان سے باہر تھے تو ویبھو سوریہ ونشی نے کچھ دیر کے لیے سمیع کی کپتانی کی۔ شیخ رشید کی وکٹ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی حکمت عملی سے وہ اس قدر پرجوش تھے کہ وکٹ ملنے کے بعد سمیع پر چھلانگ لگا دی اور ان کی پیٹھ پر سوار ہوگئے۔۱۵؍سالہ ویبھو کے بارے میں سمیع نے کہا’’اسے میری ٹانگ کھینچنا بہت پسند ہے۔ میں بھی اسے کہہ دیتا ہوں کہ میری کرکٹ کی عمر بھی اس سے زیادہ ہے۔ لیکن وہ مسلسل مذاق کرتا رہتا ہے اور یہ اچھی بات ہے۔ کھل کر بات کرنا، سب کے ساتھ گھل مل جانا اور ٹیم کے ساتھ تال میل بنانا آگے چل کر اس کے بہت کام آئے گا۔ میں ہمیشہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں سب کے ساتھ کھل کر بات کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ آج کل کے بیشتر نوجوان کھلاڑی پہلے ہی کافی پختہ ہیں۔ وہ آئی پی ایل اور دیگر دباؤ والے ٹورنامنٹس کھیلتے ہیں، اس لیے ان میں جلد پختگی آجاتی ہے اور انہیں بہت زیادہ سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب میچ مشکل مرحلے میں پہنچتا ہے تو آپ حکمت عملی سے متعلق مشورے دیتے ہیں اور انہیں لڑتے رہنے کی یاد دلاتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK