• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتیش سیواچ نے۶۴؍ سال کا انتظار ختم کیا، گریکو رومن کشتی کا چاندی کا تمغہ جیتا

Updated: October 01, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

نتیشسیواچ نے مردوں کے ۹۷؍ کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے ۶۴؍ سال کا انتظار ختم کردیا اور ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔

Nitesh Siwach.Photo:X
نتیش سیواچ۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی پہلوان نتیش سیواچ نے جمعرات کو مردوں کے ۹۷؍ کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کر ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے ۶۴؍ سال کا انتظار ختم کردیا اور ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ابھیشیک کے گول سے ہندوستان نے ہاکی کے فائنل میں جگہ بنائی

 جمعرات کو طلائی تمغے کے مقابلے میں سیواچ کو جاپان کے یوری ناکازاتو نے شکست دے کر طلائی تمغہ جیتا، جبکہ سیواچ دوسرے مقام پر رہے اور انہیں چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ اس کھیل میں ہندوستان کا تاریخی تمغہ ہے، جہاں ملک نے اس سے قبل صرف چار کانسی کے تمغے جیتے تھے۔ سیواچ فائنل تک کے سفر میں شاندار نظر آئے۔ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز کوارٹر فائنل میں ترکمانستان کے امان بردی اگامامیدوف کے خلاف  ۱۔۷؍کی جیت سے کیا، جس کے بعد سیمی فائنل میں منگولیا کے گنخو یانگ گن باتار کے خلاف اس سے بھی زیادہ مضبوط کارکردگی پیش کی۔ایشین چیمپئن شپ کے چاندی کا تمغہ فاتح سیواچ نے `ٹیکنیکل سپیریئرٹی  (تکنیکی برتری) کی بنیاد پر گن باتار کو  ۰۔۹؍سے شکست دی اور ابتدائی تین منٹ کے پیریڈ میں ہی مقابلہ ختم کردیا۔  سیواچ کے سیمی فائنل مقابلے میں گراؤنڈ پوزیشن سے دو فور پوائنٹ تھرو (چار پوائنٹس والے داؤ) دیکھنے کو ملے، جن کا منگولین پہلوان کوئی جواب نہیں دے سکا اور ہندوستانی پہلوان نے طلائی تمغے کے مقابلے میں اپنی جگہ پکی کرلی۔

یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن نے ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کے لیے موہن لال کی منظوری طلب کی

فائنل مقابلہ زیادہ مشکل ثابت ہوا، جس میں ناکازاتو نے ابتدا ہی میں ۰۔۲؍کی برتری حاصل کرلی۔ سیواچ اس فرق کو ختم نہیں کرسکے اور جاپانی پہلوان نے اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے طلائی تمغہ جیت لیا۔ پوڈیم پر سرفہرست مقام حاصل نہ کرنے کے باوجود سیواچ کا چاندی کا تمغہ ایشیائی کھیلوں کی گریکو رومن کشتی میں ہندوستان کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے اور اس کھیل میں ہندوستانی فائنلسٹ کے لیے طویل عرصے سے جاری انتظار بھی ختم ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK