Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: مسلمانوں کے متعلق تقریباً نصف خبروں میں تعصب : تحقیق

Updated: March 10, 2026, 10:02 PM IST | London

سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ کی ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں سے متعلق تقریباً ۵۰؍فیصد خبروں میں کسی نہ کسی قسم کا تعصب پایا جاتا ہے، جس میں۷۰؍ فیصد خبریں اسلام کو منفی انداز میں پیش کرتی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ کی ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں سے متعلق تقریباً ۵۰؍فیصد خبروں میں کسی نہ کسی قسم کا تعصب پایا جاتا ہے، جس میں۷۰؍ فیصد خبریں اسلام کو منفی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ دائیں بازو کے میڈیابشمول اسپیکٹیٹر، جی بی نیوز اور ٹیلی گراف میں تعصب کی شرح سب سے زیادہ جبکہ بی بی سی میں سب سے کم درج کی گئی۔سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ (سی ایف ایم ایم) کی ایک جامع تحقیق ۲۰۲۵ء میں برطانیہ کے میڈیا اداروں میں مسلم مخالف تعصب کے وسیع پیمانے پر پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحقیق میں۳۰؍ بڑے خبر رساں اداروں میں شائع ہونے والے۴۰؍ ہزار ۹۱۳؍ مضامین کا جائزہ لیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ تقریباً۲۰؍ ہزار تحریروں میں اسلام اور مسلم معاشرے کے بارے میں متعصبانہ تجزیہ تھا۔بعد ازاں مطالعے میں بتایا گیا کہ۷۰؍ فیصدمضامین میں مسلمانوں یا اسلام کو منفی رویوں یا مسائل سے جوڑا گیا،جس سے نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو تقویت ملی اور منفی تاثرات میں اضافہ ہوا۔تاہم منفی روابط کا یہ مستقل نمونہ برطانوی میڈیا میں مسلم برادریوں اور اسلامی موضوعات کی کوریج میں ساختی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر عوامی رائے اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ریاستی پبلک سروس کمیشنز کے ۴۷۴ سربراہوں میں صرف ۲۲ مسلمان

دائیں بازو کی تنظیمیں تعصب میں سرفہرست
رپورٹ میں دائیں بازو کی اشاعتوں کو مسلم مخالف تعصب کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا،جس میں اسپیکٹیٹر میں ’’انتہائی متعصبانہ‘‘ مضامین کا سب سے زیادہ تناسب تھا۔ دیگر متعصبانہ کوریج والے اداروں میں جی بی نیوز، ٹیلی گراف، جیوش کرانیکل، ڈیلی ایکسپریس، دی سن، ڈیلی میل اور دی ٹائمز شامل تھے۔ اس کے برعکس، تمام اداروں کے مطالعے میں بی بی سی میں تعصب کی شرح سب سے کم درج کی گئی۔ساختی تعصب پر تشویش سی ایف ایم ایم کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید نے کہا کہ’’برطانیہ میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مطالعے میں یہ رپورٹ اس بات کے گہرے تشویش ناک شواہد پیش کرتی ہے کہ برطانوی پریس میں مسلمانوں کی تصویر کشی میں ساختی تعصب پایا جاتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ یہ نتائج میڈیا کی ذمہ داری، نمائندگی اور برطانیہ میں برادریوں کے تعلقات اور سماجی انضمام پر متعصبانہ رپورٹنگ کے اثرات کے بارے میں تشویشناک سوالات اٹھاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK