Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی قانون ساز اینڈی اوگلز کے مسلم مخالف بیان پر سیاسی ہلچل، چو طرفہ مذمت

Updated: March 10, 2026, 10:02 PM IST | Washington

ریپبلکن قانون ساز اینڈی اوگلز کو سوشل میڈیا پر مسلم مخالف اور نفرت انگیز پوسٹ کیے جانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کچھ ریپبلکن نے بھی اس کے بیان کی مذمت کی ہے۔

Republican lawmaker Andy Ogles. Photo: X
ریپبلکن قانون ساز اینڈی اوگلز۔ تصویر: ایکس

ریپبلکن قانون ساز اینڈی اوگلز کو سوشل میڈیا پر مسلم مخالف اور نفرت انگیز پوسٹ کیے جانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کچھ ریپبلکن نے بھی اس کے بیان کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ اوگلز نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ ، ’’مسلمان امریکی معاشرےکا حصہ  نہیں ہیں، پلورل ازم( تکثیریت )ایک جھوٹ ہے۔‘‘ بعد میں اس نے مزید کہا کہ امریکی مسلمانوں کو مسلم ممالک میں منتقل ہو جانا چاہیے اور کہا کہ "دنیا میں۵۷؍ اسلامی ممالک ہیں (برطانیہ کے علاوہ)۔

یہ بھی پڑھئےـ: محمود خلیل کی حراست کے ایک سال بعد کولمبیا یونیورسٹی میں مظاہرین کی ریلی

ردعمل:
ڈیموکریٹک لیڈر ہیکم جیفریز نے اوگلز کو "مہلک مسخرا اور پیتھولوجیکل جھوٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جیسےاسلام دشمن  کا کانگریس یا مہذب معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔‘‘ایک اور ڈیموکریٹک نمائندے ایرک سوالویل نے کہا کہ،’’ ان کے ضلع میں مسلمان ،والدین، کاروباری افراد اور پولیس افسران ہیں، وہ امریکی ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے بھی اوگلز کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے’’مسلم مخالف انتہا پسند‘‘ قرار دیا۔ تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد مچل نے کہا کہ ’’پہلی ترمیم ہر امریکی شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پرھئے: ٹرمپ کی گولف کھیلتے ہوئے تصاویر وائرل، انٹرنیٹ صارفین برہم، سخت تنقیدیں

یاد رہے کہ اوگلز اس سے قبل بھی۲۰۲۴ء میں تنازع کا شکار رہ چکا ہے جب غزہ میں مقتول بچوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا تھا کہ ’’ہمیں ان سب کو مار دینا چاہیے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK