Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ کا پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے حکم نامے پر دستخط

Updated: August 07, 2026, 5:01 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے اور برتھ ٹورازم پر لگام لگانے کے مقصد سے ایک حکم نامے پر دستخط کئے ہیں، یہ پیشرفت امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اس سلسلے میں ان کی ہدایت کو مسترد کیے جانے کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔

US President Donald Trump. Photo: INN. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دو نئے حکم نامے پر دستخط کیے، جن کا مقصد پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو محدود کرنا اور نام نہاد ’’برتھ ٹورازم‘‘ (پیدائشکیلئے سیاحت) کو روکنا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے اسی طرح کی ایک ہدایت کو مسترد کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے شہریت کے اہلیت کے دائرے کو تنگ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا اعادہ کیا ہے۔ان میں سے ایک حکم نامہ ’’کمرشیل برتھ ٹورازم‘‘ میں ملوث افراد کو ملک میں داخلے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسرا ان افراد کے زمروں کو وسعت دیتا ہے جن کے بچوں کو پیدائشی شہریت کے لیے نااہل سمجھا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ اقدام امریکی سپریم کورٹ کے۳۰؍ جون کو ٹرمپ کے گزشتہ حکم نامے  کو مسترد کرنے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں شہریت کی اس دیرینہ تشریح کو برقرار رکھا گیا تھا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر شخص خودکار طور پر امریکی شہری بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوگنڈا کے فٹبال کپتان اسٹریٹ گینگ کے حملے میں ہلاک

اپنے دفتر میں حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ انتظامیہ اپنی حکمت عملی میں ترمیم کر رہی ہے۔ دستخط کی تقریب میں ٹرمپ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر، سیکریٹری کامرس ہاورڈ لوٹنک، امریکی ٹریڈ نمائندے جیمیسن گریر اور وائٹ ہاؤس کے سیکریٹری اسٹاف ول شارف بھی تھے۔ یاد رہے کہ امریکی آئین میں شامل چودھویں ترمیم، جو۹؍ جولائی۱۸۶۸ء کو منظور ہوئی تھی، ریاستہائے متحدہ میں پیدا ہونے یا نیچرلائز ہونے والے تمام افراد بشمول سابق غلاموں کو شہریت فراہم کرتی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے استدلال کیا کہ’’ اس شق کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ غلاموں کے بچوں کے لیے تھا، اور اب لوگ اسے کاروبار بنا رہے ہیں۔‘‘اسٹیفن ملر، جنہیں ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن ایجنڈے کا معمار سمجھا جاتا ہے، نے ان ایگزیکٹو آرڈرز کا دفاع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کچھ غیر ملکی شہری موجودہ نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ کا سفر کرتے ہیں۔اور وہ تمام حقوق اور مراعات حاصل کرتے ہیںجو صرف امریکیوں کے لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہوں کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا‘‘

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایک ایگزیکٹو آرڈر ان بچوں کے کئی زمرے متعین کرتا ہے جنہیں شہریت کے دستاویزات نہیں دئے جائیں گے۔ ان میں وہ بچے شامل ہیں جو ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوئے ہوں جنہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کسی تجارتی لین دین میں حصہ لیا ہو کہ  ماں بچے کی پیدائش کے لیے ریاستہائے متحدہ یا اس کے کسی علاقے میں موجود ہو۔ اس آرڈر میں دہشت گرد گروہوں کے ارکان، غیر ملکی سرکاری ملازمین کے بچے اور ان علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے بھی شامل ہیں جہاں وفاقی قانون کے تحت شہریت نہیں دی جاتی۔ دریں اثناء ان تازہ اقدامات پر امیگریشن ماہرین کی تنقیدسامنے آئی۔ نیویارک میں مقیم امیگریشن وکیل سائرس مہتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا،’’ ٹرمپ کا پیدائشی شہریت پر نیا حکم نامہ بھی صریحاً غیر آئینی ہے جب یہ شہریت کو اس وقت خارج کرتا ہے جب شخص کے والدین کسی تجارتی لین دین میں ملوث ہوں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شخص کی ماں ریاستہائے متحدہ یا اس کے کسی علاقے میں بچے کو جنم دے۔ انہوں نے مزید کہا، تجارتی لین دین کا مطلب بہت مبہم ہے اور یہ چودھویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اسے کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حقوق گروپ کا گرفتارغزہ کےاسپتال ڈائریکٹر کا آزاد طبی معائنے کا مطالبہ

ذہن نشین رہے کہ مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق، امریکہ میں ہر سال برتھ ٹورازم کے ذریعے ۲۲۰۰۰؍سے ۲۶۰۰۰؍ بچے پیدا ہوتے ہیں، جو اس کے وسیع ترین مردم شماری پر مبنی تخمینے کے تحت ہے، حالانکہ سرکاری اعداد و شمار میں۲۰۲۴ء میں غیر ملکی  ماؤں کی طرف سے تقریباً ۹۶۰۰؍پیدائشیں درج کی گئیں۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے بھی ٹرمپ کے اس تازہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس آئینی سوال کا فیصلہ کر چکی ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین نے ایک بیان میں کہا، ’’سپریم کورٹ پہلے ہی اس مسئلے کا فیصلہ کر چکی ہے، پیدائشی شہریت آئین کے ذریعہ ضمانت دی گئی ہے۔ کوئی بھیحکم نامہ  جو پیدائشی شہریت پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا، اس کا وہی انجام ہوگا جو صدر ٹرمپ کے پچھلے آرڈر کا ہوا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK