• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے ایم یو میں ٹیچر دانش علی کے قتل کے ملزموں کا کوئی سراغ نہیں،طلبہ کا کینڈل مارچ

Updated: January 01, 2026, 11:01 PM IST | Aligarh

احتجاج میں شامل طلبہ نے کہا ’’ قتل کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن قاتل ابھی تک فرار ہیں،دانش علی کو انصاف ملنے تک ہماری آواز کو خاموش نہیںکیا جاسکتا ‘‘

A candlelight march was taken out from the Faculty of Arts to Bab Syed.
فیکلٹی آف آرٹس سے باب سید تک کینڈل مارچ نکالا گیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ٹیچر راؤ دانش علی کے قتل کو ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی ملزموں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اس دوران یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ نے اپنے غصے کا کھل کر اظہار کیا۔ بدھ کی شام اے ایم یو کے سیکڑوں طلباء نے کینڈل مارچ نکال کر مقتول ٹیچر کو خراج عقیدت پیش کیا اور پولیس انتظامیہ سے جلد از جلد قتل کیس کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔کینڈل مارچ فیکلٹی آف آرٹس سے شروع ہوا اور باب سید پر اختتام کو پہنچا۔ موجودہ طلبہ کے ساتھ سابق طلبہ یونین کے صدور، سابق طلبہ قائدین اور سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سب نے موم بتیاں اٹھا رکھی تھیں اور ایک ہی مطالبہ گونج رہا تھا’’ راؤ دانش علی کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرو۔‘‘
 ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق کینڈل مارچ کے دوران اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر وسیم علی نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مقتول ٹیچر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ یونیورسٹی اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
  سی سی ٹی وی کیمروں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں، پراکٹر نے تسلیم کیا کہ یونیورسٹی کیمپس میں کچھ کیمرے خراب تھے۔ انہوں نے بتایا کہ۲۲؍ دسمبر کے آس پاس کیبل فیل ہونے کی وجہ سے کئی سی سی ٹی وی کیمروں کی حالت خراب تھی۔ تاہم جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں کےسی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہیں اور اس کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیکوریٹی اہلکاروں نے موقع پر موجود صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن یہ واقعہ اچانک پیش آیا اور یہ غیر متوقع تھا۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود قاتل فرار ہیں
 کینڈل مارچ میں شریک سابق طالب علم عدنان حمید نے بتایا کہ قتل کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن قاتل ابھی تک فرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر اس طرح کے واقعہ نے طلباء اور فیکلٹی کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کا بند ہونا بھی ایک بڑی غفلت ہے جس کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ کو قبول کرنی چاہئے۔
قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
  سابق طالب علم محمد عارف خان نے کہا کہ کینڈل مارچ کا واحد مقصد قاتلوں کی جلد گرفتاری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس کیس میں بھی انصاف ملے گا، جس طرح ضلعی انتظامیہ نے سابقہ مقدمات میں کارروائی کی ہے۔ حسین نامی طالب علم نے کہا کہ یونیورسٹی میں۵۰؍ سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے ناکارہ ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ تقریباً۳۲؍ ہزار طلبہ اور۶؍ہزاراسٹاف ممبران کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ کینڈل مارچ کے ذریعے طلباء اور سابق طلباء نے واضح پیغام دیا کہ راؤ دانش علی کو انصاف ملنے تک ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK