کاسرگوڈ کے صدیوں پرانے شری پوبانم کُزی مندر نے ’برہما کلا شوتسوم‘ جشن کے موقع پر اپنے صحن میں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جس میں تقریباً ۲۰۰ افراد نے شرکت کی۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 6:13 PM IST | Thiruvananthapuram
کاسرگوڈ کے صدیوں پرانے شری پوبانم کُزی مندر نے ’برہما کلا شوتسوم‘ جشن کے موقع پر اپنے صحن میں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جس میں تقریباً ۲۰۰ افراد نے شرکت کی۔
رمضان المبارک کے دوران کیرالا سے ہم آہنگی کی دو مثالیں سامنے آئی ہیں جن کی بڑے پیمانے پر ستائش کی جارہی ہے۔ ریاست کے قصبہ کاسرگوڈ میں واقع صدیوں پرانے `شری پوبانم کُزی مندر` نے دیوتاؤں کی دوبارہ تنصیب کی خوشی میں منائے جانے والے ’برہما کلا شوتسوم‘ جشن کے موقع پر اپنے صحن میں اجتماعی افطار کی میزبانی کی۔ ۲۶ فروری کو منعقدہ اس تقریب میں تقریباً ۲۰۰ افراد نے شرکت کی۔ منتظمین نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ نسلوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں۔
مندر کی پروگرام کمیٹی کے چیئرمین چندرن وی نے کہا کہ ”ہمارا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ مندر کے گرد رہنے والے مسلمانوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے۔ چونکہ ان میں سے بہت سے لوگ رمضان کے روزے رکھ رہے تھے اور مندر کے تہوار کے سلسلے میں منعقدہ `انادانم` (کھانے کی تقسیم) میں حصہ نہیں لے سکتے تھے، اس لئے ہم نے شمولیت کے جذبے کے تحت اجتماعی افطار کی میزبانی کا فیصلہ کیا۔“ دن کا آغاز ایک بین المذاہب کانفرنس سے ہوا اور اختتام مندر کے صحن میں افطاری کے دسترخوان پر ہوا۔ مقامی رہائشیوں نے اس تقریب کو تاریخی قرار دیا۔ علاقے کے رہائشی ساجد مائول نے کہا کہ ”ہم خوش قسمت تھے کہ ہم نے وہ منظر دیکھا جو ہمارے آباؤ اجداد نے بھی نہیں دیکھا ہوگا۔“
یہ بھی پڑھئے: بہار: پنکچر ساز سرفراز نے اپنی والدہ کی یاد میں پل تعمیر کردیا،۴۰؍ گائوں مستفیض
امام پالیم کی مساجد اور گھروں کو پونگالا عقیدت مندوں کے لئے کھولنے کی اپیل
کیرالا کی بقائے باہمی کی روایت کی عکاسی کرتی ایک اور مثال مسلمانوں کی طرف سے سامنے آئی ہے۔ پالیم جامع مسجد کے امام وی پی صہیب مولوی کی اپیل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ نمازِ جمعہ کے دوران امام نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ۳ مارچ کو ہونے والے اتوکال پونگالا کے جشن کے لئے تھرواننت پورم آنے والی خواتین اور بچوں کے لئے اپنی مساجد اور گھروں کے دروازے کھول دیں۔
اگرچہ مسلمان پونگالا کی رسومات میں حصہ نہیں لیتے، لیکن امام نے برادری سے اپیل کی کہ وہ عقیدت مندوں کو پینے کا پانی، رمضان کے پکوان اور آرام کی سہولیات فراہم کریں، کیونکہ اس سال بھی یہ تہوار رمضان کے مقدس مہینے کے ساتھ ہی آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محبت اور بھائی چارے کے اظہار کا موقع ہے۔ ایسے اقدامات کی ملک میں مسلمانوں کے تئیں بڑھتی ہوئی نفرت اور اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ ہائی کورٹ کا حکم: ۸۰۰؍ سالہ قدیم درگاہ کو نہ چھیڑا جائے
امامِ پالیم کے خطبے کے ویڈیو کلپس آن لائن بڑے پیمانے پر شیئر کئے گئے ہیں۔ مناکاڈ میں واقع تاریخی ولیا پلی مسلم جماعت مسجد طویل عرصے سے اسی طرح کی روایت پر عمل پیرا ہے، جو پونگالا کے عقیدت مندوں کو پانی، بیت الخلا اور آرام کی جگہیں فراہم کرتی ہے اور اس بڑے سالانہ اجتماع کے دوران ہنگامی امداد فراہم کرنے والوں کی بھی رہائش کا انتظام کرتی ہے۔