یوڈائس پلس پورٹل کےمطابق ممبئی اور ریاست کےدیگر اضلاع کے۷؍ہزار ۹۴۶؍ اسکولوںمیں طلبہ کی تعداد ایک تا ۱۰؍ ہے۔ ایجوکیشن کمشنر نے جانچ کی ہدایت دی
EPAPER
Updated: October 03, 2025, 10:27 PM IST | Mumbai
یوڈائس پلس پورٹل کےمطابق ممبئی اور ریاست کےدیگر اضلاع کے۷؍ہزار ۹۴۶؍ اسکولوںمیں طلبہ کی تعداد ایک تا ۱۰؍ ہے۔ ایجوکیشن کمشنر نے جانچ کی ہدایت دی
مرکزی حکومت کے یونیفائڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن ( یوڈائس پلس )کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق نئے تعلیمی سال ۱۵؍جون سے ۳۰؍ستمبر ۲۰۲۵ءتک ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع کے تقریباً ۳۹۴؍ اسکولوںمیں ایک بھی طالب علم کارجسٹریشن نہیں ہوا ہے جبکہ ان اسکولوںمیں تقریباً ۴۰۰؍ اسٹاف ممبر ہیں۔ اسی طرح۷؍ہزار ۹۴۶؍ اسکولوںمیں صرف ایک سے ۱۰؍طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ ریاست میں طلبہ کے اندراج میں پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔مذکورہ رپورٹ کےمطابق دیہی اسکولوں کی حالت تشویشناک ہے جہاں طلبہ کی تعداد میں کمی کی وجہ سے سیکڑوں اساتذہ کے سرپلس ہونےکا خطرہ ہے۔ایسےحالات میں بھی تعلیمی تنظیموں نے فی الحال سبھی اسکولوںکو جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے ا مسال ریاست کے تمام ایک لاکھ ۸؍ ہزار ۳۹۶؍ اسکولوںکو ۳۰؍ستمبر تک طلبہ کے رجسٹریشن کی تفصیلات یوڈائس پورٹل پر درج کرانےکی ہدایت دی گئی تھی۔ ۳۰؍ستمبر تک مرتب کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ریاست بھر میں کل ۳۹۴؍ اسکولوں میں رواں تعلیمی سال کیلئے طلبہ کے داخلے کی شرح صفر ہے۔ اس معاملہ میںپونے۳۷؍اسکولوںکےساتھ سرفہرست ہے۔ اس کے بعد ناگپور ، رتناگیری اور ناندیڑمیں بالترتیب ۲۳، ۲۴؍اور ۱۶؍ اسکول ہیں جہاں ایک بھی طالب علم نےداخلہ نہیں لیاہے۔
ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں ۲۲؍ اور شہر کے ۵؍ اسکولوں کا بھی یہ حال ہے ،ا ن اسکولوںمیں ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔ ریاست بھر میں۷؍ہزار ۹۴۶؍ ایسے اسکول ہیں جن میں صرف ایک سے ۱۰؍ کےدرمیان طلبہ ہیں۔ اس زمرے میں رتناگیری میں سب سے زیادہ ۷۱۳، اس کے بعد رائے گڑھ (۶۸۲)، پونے (۶۲۷)، سندھو درگ (۵۶۹)اور کولہاپور (۳۱۷) ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں بھی ۳۶۰؍ایسے اسکول ہیں جن میں ۱۰؍ سے کم طلبہ ہیں۔ ریاست میں ۱۱؍سے ۱۰۰؍ طلبہ والے اسکولوںکی تعداد ۵۲؍ہزار ۵۷۳؍ ہے۔ ان میں احمد نگرمیں ۳؍ ہزار سے زائد ، پونےمیں تقریباً ۳؍ہزار اور ناسک میں ۲؍ ہزار ۶۰۰؍اسکول ہیں۔
دیہی علاقوں کے اسکولوںمیں طلبہ کے اندراج میں کمی آنے کے باوجود ریاستی سطح پر مجموعی صورتحال بہتر ہے۔ ستمبر کے آخر تک کلاس اوّل سے بارہویں جماعت میں رجسٹرڈ طلبہ کی کل تعداد ۲؍ کروڑ ، ۸۶؍ لاکھ ۹۴۳؍ بتائی گئی ہے جوگزشتہ سال کے ۲؍کروڑ ۱۱؍ لاکھ ۷۹؍ہزار ۶۷۳ ؍کےمقابلےمیں ۷؍ہزار ۲۷۰؍زیادہ ہے۔ یہاں اس بات پربھی توجہ دینےکی ضرورت ہےکہ ابھی ۵؍لاکھ طلبہ کاریکارڈ زیر التواء ہے، ان کےریکارڈ درج کئے جانےکےبعد یہ تعداد مزید بڑھے گی۔
مذکورہ رپورٹ پراسکولی تعلیم کے کمشنر سچندرا پرتاپ سنگھ نے مقامی حکام کو ان اسکولوںکادورہ کرنےکی ہدایت دی ہےجہاں ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔ حکام سے کہاگیا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کریں کہ آیا یہ اسکول پہلے بند ہوئے تھے ،اس کےباوجود یوڈائس ریکارڈ میں موجود ہیں۔ایک سے ۱۰؍ طلبہ والے اسکولوں کے رزلٹ کا مطالعہ جاری ہے۔ اس کےجائزے کی بنیاد پر مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایاکہ’’ یوڈائس پلس پورٹل کی رپورٹ بالخصوص دیہی علاقوںکے اسکولوںکیلئے تشویشنا ک ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان علاقوںمیں تکنیکی دشواریوںکی وجہ سے پیش آنے والی دقتوںکوبھی ذہن میں رکھناچاہئے۔ جن ۳۹۴؍اسکولوںمیں ایک بھی طالب علم نہیں ہے، ان اسکولوںمیں انٹرنیٹ ، نیٹ ورک اور آن لائن رجسٹریشن کی کارروائی مکمل کرنےمیں دشواریاں حائل ہونے کا امکان ہے ،چنانچہ ریاستی وزیر تعلیم دادابھُسے سے اپیل ہےکہ وہ ان اسکولوںکوجلدبازی میں بند کرنےکافیصلہ نہ کریں ۔ ابھی ۵؍لاکھ سے زائد طلبہ کےرجسٹریشن کی تفصیلات یوڈائس پورٹل پر درج کرنی باقی ہے۔ اس کارروائی کی تکمیل کےبعدہی حتمی فیصلہ لیناچاہئے ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ ۳۰؍ ستمبر تک یوڈائس پورٹل پر رجسٹریشن کی تفصیلات درج کرنے کی جوہدایت دی گئی تھی، اسے ۳۰؍ اکتوبر کیا جائے اور ۳۰؍اکتوبرتک درج ہونےوالی تفصیلات کی بنیا د پر ہی سنچ مانیتا کی جائے۔‘‘